افغانستان الزام تراشی کی بجائے دہشت گردی کو ختم کرنے پر توجہ دے؛ ماہرین کا سہیل شاہین کے بیان پر ردعمل

افغانستان الزام تراشی کی بجائے دہشت گردے کو ختم کرنے پر توجہ دے؛ ماہرین کا سہیل شاہین کے بیان پر ردعمل

ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی معلومات، حملہ آور کے پس منظر اور متعدد حالیہ حملوں اور منصوبہ بندیوں کے تناظر میں یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں۔

تجارت ضروری ہے مگر سکیورٹی پر سمجھوتہ ناممکن ہے؛ ماہرین کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید

تجارت ضروری ہے مگر سکیورٹی پر سمجھوتہ ناممکن ہے؛ ماہرین کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید

پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ “ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔”

اور افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کی آماج گاہ بن گیا

اور افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کی آماج گاہ بن گیا

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس، کوارٹرلی جائزوں اور سگار کی رپورٹس مسلسل اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد گروہ افغانستان میں نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ اپنی سرگرمیوں کو خطے سے باہر تک پھیلا رہے ہیں۔

دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی جنگ صرف دہشتگردوں کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ رواں سال کے دوران ملک بھر میں 67 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے جن میں 1873 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی افغانستان پر حملہ نہیں کیا، اگر کارروائی ہوئی تو صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ہوگی۔

افغانستان کا تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر ردعمل؛ تعاون کی پیشکش

افغانستان کا تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر ردعمل؛ تعاون کی پیشکش

وزارت نے چین اور تاجکستان کے لیے گہرے افسوس کے ساتھ اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ افغانستان، حکومتِ تاجکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے” اور واقعے کے تمام عوامل جاننے کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقات” کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔