پاکستان اور افغانستان کے قبائل کے درمیان باجوڑ میں تاریخی جرگہ کامیاب؛ کنڑ سے مہمند تک جنگ بندی اور تجارتی راستے کھولنے پر اتفاق۔

May 5, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔

May 5, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی؛ میزائلوں سے نقصان بہت کم ہوا۔

May 5, 2026

سعودی ولی عہد کا اماراتی صدر کو فون؛ ایران کے حملوں کی مذمت اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان۔

May 5, 2026

پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں خراب موسم اور تکنیکی خرابی کا شکار بھارتی جہاز ایم وی گوتم کے عملے کو ممبئی ایم آر سی سی کی کال پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے بچا لیا۔

May 5, 2026

ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔

May 5, 2026

تجارت ضروری ہے مگر سکیورٹی پر سمجھوتہ ناممکن ہے؛ ماہرین کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید

پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ “ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔”
تجارت ضروری ہے مگر سکیورٹی پر سمجھوتہ ناممکن ہے؛ ماہرین کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید

دوسری جانب، افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امن اور تعاون صرف اسی وقت ممکن ہے جب افغان سرزمین پاکستان یا خطے کے خلاف استعمال نہ ہو۔

November 29, 2025

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر پاکستان کی افغانستان کے ساتھ پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں سے ملاقات میں کہا جو افغانستان کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کے لیے ان سے رجوع کر رہے تھے کہ پاکستان کی افغانستان پالیسی “تباہ کن، غیر عملی اور گزشتہ 45 سال سے ناکام” رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید الزام لگایا کہ پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں افغان عوام کی پشت پر ڈالر کمائے، اور ملک کی موجودہ صورتحال کو “شدید پریشان کن” قرار دیا۔

پاک افغان امور کے ماہرین نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات کے پیش نظر واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے افغانستان کا دورے کیے اور افغان قیادت کے ساتھ تجارتی اور سیکورٹی تعلقات کے بارے میں بات چیت کی۔ اس کے علاوہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کے طویل تین ادوار ہوئے جو افغانستان کی ضد اور غیر واضح پالیسی کے باعث ناکام رہے۔

پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ “ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔”

دوسری جانب، افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امن اور تعاون صرف اسی وقت ممکن ہے جب افغان سرزمین پاکستان یا خطے کے خلاف استعمال نہ ہو۔

دیکھیں: اسلام آباد خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی، وزیرِ اطلاعات

متعلقہ مضامین

پاکستان اور افغانستان کے قبائل کے درمیان باجوڑ میں تاریخی جرگہ کامیاب؛ کنڑ سے مہمند تک جنگ بندی اور تجارتی راستے کھولنے پر اتفاق۔

May 5, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔

May 5, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی؛ میزائلوں سے نقصان بہت کم ہوا۔

May 5, 2026

سعودی ولی عہد کا اماراتی صدر کو فون؛ ایران کے حملوں کی مذمت اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان۔

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *