تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

June 25, 2026

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

June 25, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

June 25, 2026

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

June 25, 2026

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

June 25, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

June 24, 2026

افغانستان کا تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر ردعمل؛ تعاون کی پیشکش

وزارت نے چین اور تاجکستان کے لیے گہرے افسوس کے ساتھ اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ افغانستان، حکومتِ تاجکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے” اور واقعے کے تمام عوامل جاننے کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقات” کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔
افغانستان کا تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر ردعمل؛ تعاون کی پیشکش

افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق ابتدائی معلومات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ "اس واقعے میں وہ گروہ شامل ہے جو خطے کے ممالک کے درمیان بدنظمی، عدم استحکام اور بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے"۔

November 28, 2025

افغانستان نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ وہ تاجکستان کے سرحدی علاقے میں تین چینی شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ جائزوں” کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تاجکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ 26 نومبر 2025 کی رات شمس الدین شاہین، خطۂ ختلان میں ایک کیمپ پر ہونے والا مسلح حملہ افغانستان کی سرزمین سے کیا گیا، جس میں تین چینی شہری مارے گئے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق ابتدائی معلومات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ “اس واقعے میں وہ گروہ شامل ہے جو خطے کے ممالک کے درمیان بدنظمی، عدم استحکام اور بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے”۔

وزارت نے چین اور تاجکستان کے لیے گہرے افسوس کے ساتھ اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ افغانستان، حکومتِ تاجکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے” اور واقعے کے تمام عوامل جاننے کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقات” کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان اس افسوس ناک واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے خطے کے امن و استحکام کے خلاف ایک مذموم کوشش قرار دیتا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ “اسلامی امارتِ افغانستان ایک بار پھر واقعے کے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور انہیں یقین دہانی کراتی ہے” کہ ذمہ داروں کی نشاندہی اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

June 25, 2026

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

June 25, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

June 25, 2026

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

June 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *