پاک افغان سرحد: تاریخ، شناخت اور سیاست

ڈیورنڈ لائن کی بنیاد 1893 میں رکھی گئی، جب افغانستان کے امیر عبدالرحمن خان نے برطانوی ہندوستان کے سیکرٹری خارجہ سر مارٹیمر ڈیورنڈ سے سرحدی معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے درمیان انتظامی حدود طے کرنے کے لیے تھا، نہ کہ سیاسی خودمختاری کے لیے۔
اگست 2021 کے بعد سے افغان میڈیا شدید پابندیوں کا شکار، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے برسرِ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان صحافت شدید دباؤ کا شکار ہے
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جلد طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا، کرن یادیو کابل میں بھارتی سفیر مقرر

دونوں ممالک سب سے پہلے اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولیں گے، جس کے فوراً بعد بھارت طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔ تاہم اعلان کی حتمی تاریخ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
قطر نے مردف القاشوطی کو افغانستان میں سفیر مقرر کر دیا

قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مردف القاشوطی اس سے قبل کابل میں قطری سفارت خانے میں چارج ڈی افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
بھارت افغان تعلقات میں اہم پیش رفت؛ بھارت نے کابل میں تکنیکی مشن کو سفارتخانے کا درجہ دے دیا

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، “یہ بحالی بھارت کے افغانستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی تجدید اور افغانستان کے مستقبل کی تعمیر میں تعاون کے جذبے کی علامت ہے۔”
اسلامی یکجہتی فنڈ نے افغان زلزلہ متاثرین کے لیے امداد کا اعلان کردیا

یہ معاہدہ چند ماہ قبل افغانستان میں آنے والے تباہ کُن زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کیا گیا ہے
پاک افغان جنگ بندی؛ سرحدی راستے تجارت کے لیے کھولنے کا فیصلہ

پاک افغان جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک نے طورخم، انگور اڈہ اور غلام خان سمیت دیگر سرحدی راستے کھولنے کا فیصلہ کر لیا
پاک افغان جنگ بندی؛ خلاف ورزی کی صورت میں معاہدہ ختم سمجھا جائے، خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح اور دو ٹوک رہا ہے کہ دراندازی و دہشت گردی کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے
چین نے پاک افغان جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند قرار دے دیا

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیائون نے کہا پاک افغان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں کردار ادا کیا
افغان سرزمین اور پاکستان: مفاہمت یا محاذ آرائی؟

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے میڈیا ادارے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں گے، جبکہ قطر اس کی نگرانی اور چین و ایران ضامن کی حیثیت سے اس کی حمایت کریں گے۔ ہر تین ماہ بعد دوحہ میں جائزہ اجلاس ہوگا۔