الزامات نہیں ثبوت – کابل کو الزام تراشی اور جارحیت کی بجائے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی

پاکستان بارہا شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کر چکا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے منظم حملے کرتے ہیں۔ اگر کابل واقعی اپنی سرزمین پر کنٹرول رکھتا ہے، تو پھر ان گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں کیوں برقرار ہیں؟
امیر خان متقی کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس: بھارت کے ساتھ تعلقات، تعلیم، تجارت اور پاکستان سے کشیدگی پر گفتگو

متقی نے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو منصوبے ادھورے رہ گئے تھے، انہیں مکمل کیا جائے گا اور جو شروع نہیں ہو سکے، ان پر دوبارہ کام کیا جائے گا۔
افغانستان کی ہر جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا؛ وزیراعظم شہباز شریف

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جاتی عمرہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات بھی کی، جس میں پاک۔افغان سرحدی کشیدگی اور دیگر ملکی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
طورخم سمیت پاک افغان بارڈر کے تمام تجارتی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد دونوں ممالک میں آج تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔ طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سمیت تمام راستے تجارت اور آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند ہیں۔
پاکستان نے 58 اہلکاروں کی ہلاکت اور داعش کی پاکستان میں موجودگی کے افغان الزامات کو مسترد کر دیا

پاکستانی عہدیدار نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا ریکارڈ واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان نے دہشت گردی کے تمام مظاہر کا مقابلہ کیا ہے، جبکہ طالبان خود دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے رہے ہیں۔”
پاکستان فضائیہ نے سرحدی حدود کی پامالی کی جس کا مؤثر جواب دیا؛ ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر داعش کے ٹھکانوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جہاں سے افغانستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
زلمے خلیل زاد کا پاکستان مخالف بیانیہ: تعصب، ناکامی اور خودساختہ بحرانوں کی داستان

زلمے خلیل زاد نے دوحہ معاہدے کے ذریعے افغانستان کو طالبان کے حوالے کیا۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے نہ صرف افغان حکومت کو کمزور کیا بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔
بھارت کی دوہری پالیسی بے نقاب: خواتین صحافیوں کو متقی کی پریس کانفرنس میں آنے کی اجازت نہ ملی

طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دار العلوم دیوبند کا دورہ، فقید المثال استقبال کیا گیا

یہ دورہ نہ صرف بھارت-افغانستان تعلقات کے نئے دور کی شروعات سمجھا جا رہا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں مذہبی ڈپلومیسی کے بڑھتے رجحان کی علامت بھی ہے۔
افغان وزارت دفاع نے کابل ڈرون حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا

وزارت نے بین الاقوامی برادری، علاقائی ممالک اور متعلقہ عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کو مانیٹر کریں اور اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔