ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، 2 افسران سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔

September 20, 2026

حکومت نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں پُرتشدد کارروائیوں اور سڑکوں کی بندش کے خلاف سخت قانونی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 20, 2026

ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ترکیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب کی ممکنہ عسکری ضروریات کا جائزہ لے گا۔

September 20, 2026

اسلام آباد کے داخلی راستوں پر امن برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پُرتشدد مظاہرین اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔

September 20, 2026

ایران نے امریکہ سے مذاکرات کیلئے تین شرائط پیش کردیں، جبکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرانے میں مدد کی پیشکش بھی کردی۔

September 20, 2026

شیخ ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز میں فتنۃ الہندستان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایت کا انکشاف ہوا ہے۔

September 20, 2026

بھارت کی دوہری پالیسی بے نقاب: خواتین صحافیوں کو متقی کی پریس کانفرنس میں آنے کی اجازت نہ ملی

طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
بھارت کی منافقت بے نقاب: طالبان کی میزبانی، مگر افغان و بھارتی خواتین کی آواز نہ سنی گئی

بھارتی میڈیا کی نمایاں صحافیوں، جیسے اسمتا شرما، سہاسنی حیدر اور پولومی سہا نے اس اقدام پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ بھارت جیسے ملک میں خواتین صحافیوں پر پابندی کے ساتھ طالبان کا پروگرام کیسے منعقد ہو سکتا ہے۔

October 11, 2025

نئی دہلی میں اسلامی امارت افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت (9 تا 16 اکتوبر 2025) کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بھارت کی خارجہ پالیسی کے دوہرے معیار کو آشکار کر دیا۔ طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔

بھارتی میڈیا کی نمایاں صحافیوں، جیسے اسمتا شرما، سہاسنی حیدر اور پولومی سہا نے اس اقدام پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ بھارت جیسے ملک میں خواتین صحافیوں پر پابندی کے ساتھ طالبان کا پروگرام کیسے منعقد ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مودی حکومت کی “سکیورٹی پراگمیٹزم” یعنی موقع پرستی پر مبنی خارجہ پالیسی کا عکاس قرار دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں افغان خواتین کے حقوق یا ان کی مشکلات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس خاموشی کو بھارتی حکومت کی سیاسی مجبوری اور طالبان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق بھارت نے ایک ایسے نظام کو ریاستی پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا جو خواتین کی تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق کو منظم انداز میں پامال کرتا ہے۔ یہ اقدام اس ملک کے “ناری شکتی” اور خواتین کے احترام کے نعروں کی نفی کرتا ہے۔

یہ واقعہ نئی دہلی میں صرف ایک پریس کانفرنس نہیں تھا بلکہ ایک علامتی منظر تھا — جہاں نہ صرف افغان بلکہ بھارتی خواتین کی آواز کو بھی دبایا گیا۔ مودی حکومت کی یہ خاموشی بھارت کے اخلاقی معیار پر ایک گہرا سوال چھوڑ گئی ہے۔

دیکھیں: افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دار العلوم دیوبند کا دورہ، فقید المثال استقبال کیا گیا

متعلقہ مضامین

ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، 2 افسران سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔

September 20, 2026

حکومت نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں پُرتشدد کارروائیوں اور سڑکوں کی بندش کے خلاف سخت قانونی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 20, 2026

ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ترکیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب کی ممکنہ عسکری ضروریات کا جائزہ لے گا۔

September 20, 2026

اسلام آباد کے داخلی راستوں پر امن برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پُرتشدد مظاہرین اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔

September 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *