مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

بھارت کی دوہری پالیسی بے نقاب: خواتین صحافیوں کو متقی کی پریس کانفرنس میں آنے کی اجازت نہ ملی

طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
بھارت کی منافقت بے نقاب: طالبان کی میزبانی، مگر افغان و بھارتی خواتین کی آواز نہ سنی گئی

بھارتی میڈیا کی نمایاں صحافیوں، جیسے اسمتا شرما، سہاسنی حیدر اور پولومی سہا نے اس اقدام پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ بھارت جیسے ملک میں خواتین صحافیوں پر پابندی کے ساتھ طالبان کا پروگرام کیسے منعقد ہو سکتا ہے۔

October 11, 2025

نئی دہلی میں اسلامی امارت افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت (9 تا 16 اکتوبر 2025) کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بھارت کی خارجہ پالیسی کے دوہرے معیار کو آشکار کر دیا۔ طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔

بھارتی میڈیا کی نمایاں صحافیوں، جیسے اسمتا شرما، سہاسنی حیدر اور پولومی سہا نے اس اقدام پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ بھارت جیسے ملک میں خواتین صحافیوں پر پابندی کے ساتھ طالبان کا پروگرام کیسے منعقد ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مودی حکومت کی “سکیورٹی پراگمیٹزم” یعنی موقع پرستی پر مبنی خارجہ پالیسی کا عکاس قرار دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں افغان خواتین کے حقوق یا ان کی مشکلات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس خاموشی کو بھارتی حکومت کی سیاسی مجبوری اور طالبان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق بھارت نے ایک ایسے نظام کو ریاستی پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا جو خواتین کی تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق کو منظم انداز میں پامال کرتا ہے۔ یہ اقدام اس ملک کے “ناری شکتی” اور خواتین کے احترام کے نعروں کی نفی کرتا ہے۔

یہ واقعہ نئی دہلی میں صرف ایک پریس کانفرنس نہیں تھا بلکہ ایک علامتی منظر تھا — جہاں نہ صرف افغان بلکہ بھارتی خواتین کی آواز کو بھی دبایا گیا۔ مودی حکومت کی یہ خاموشی بھارت کے اخلاقی معیار پر ایک گہرا سوال چھوڑ گئی ہے۔

دیکھیں: افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دار العلوم دیوبند کا دورہ، فقید المثال استقبال کیا گیا

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *