آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے۔

October 2, 2026

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ منورہ کے گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

تاجکستان نے افغان سرحد کے قریب چار دہشت گرد ہلاک کر دیے

تاجکستان کے جنوبی صوبے خطلون میں چار دہشت گرد ہلاک، تاجک حکام نے طالبان حکومت سے سرحدی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا
تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد سے چار دہشت گردوں کو ناکارہ بنایا، جب کہ سرحدی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے خطرات بڑھ رہے ہیں

مذکورہ واقعہ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور خطے میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے

January 19, 2026

تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے قریب چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کاروائی اس وقت کی گئی جب وہ غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ان افراد نے ہتھیار ڈالنے سے بھی انکار کر دیا تھا، جس کے بعد مذکورہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

مذکورہ واقعہ تاجکستان کے جنوبی علاقے خطلون میں پیش آیا، جو افغانستان سے ملحقہ ایک حساس سرحدی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ حالیہ عرصے میں دہشت گردی کی وارداتوں اور سلامتی کے خدشات کی وجہ سے زیرِ نظر رہا ہے۔

تاجک حکام کے مطابق گزشتہ نومبر سے اب تک سرحدی علاقوں میں کم از کم پانچ مہلک واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سرحدی محافظ، چینی شہری اور مبینہ دہشت گرد شامل ہیں۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن افغانستان کی عبوری حکومت کے ناقد رہے ہیں۔ انھوں نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں رہنے والے تاجک نسلی گروہوں کے حقوق کا احترام کرے۔ تاہم سیاسی اختلافات کے باوجود تاجکستان نے افغانستان کو بجلی کی فراہمی اور سرحدی تجارت جیسے معاملات میں تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔

خطے میں سلامتی کے خدشات اس وقت اور بڑھ گئے جب 2024 کے آخر میں افغانستان میں مقیم چینی شہریوں پر حملے ہوئے۔ تاجک حکام خاص طور پر جماعت انصاراللہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں سے خطرے کو محسوس کر رہے ہیں، جو افغانستان کو اڈہ بنا کر تاجکستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض دہشت گرد طالبان کی مقامی سکیورٹی فورسز میں شامل ہو کر اپنی جنگی مہارتیں استعمال کر رہے ہیں۔

تاجکستان نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام نہ پھیلے۔

دیکھیں: قطر نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں بحران کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے معتدل حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کر دیا

متعلقہ مضامین

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے۔

October 2, 2026

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ منورہ کے گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *