"> کابل حملے: طالبان کے چین اور روس سے معاہدوں پر سنیگن تحفظات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل حملوں کے بعد چین اور روس سے طالبان کے معاہدے، انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر سوالات

کابل میں حملوں کے باوجود طالبان نے چین اور روس سے معاشی معاہدے کر لیے، جس سے ان کی سکیورٹی پالیسی پر نئے سوالات اٹھے ہیں۔
چین اور روس سے طالبان کے تجارتی معاہدے

کابل میں غیر ملکیوں پر حملوں کے بعد طالبان، چین اور روس کے تجارتی معاہدوں اور سکیورٹی صورتِ حال کا مختصراً جائزہ۔

October 16, 2026

کابل میں غیر ملکی شہریوں اور سفارت کاروں پر حملوں کے بعد چین اور روس کے ساتھ طالبان کے تجارتی معاہدوں نے افغان سکیورٹی صورتِ حال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ داعش خراسان کی مسلسل سرگرمیاں طالبان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت سکیورٹی بحال کرنے کے دعوے کرتی ہے۔ تاہم، داعش خراسان کے حملے بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ اس دوران چین اور روس کے ساتھ طالبان کے معاشی روابط بھی بڑھے ہیں۔ یہ صورتِ حال طالبان کی سکیورٹی پالیسی اور سفارتی ترجیحات پر سوالات اٹھاتی ہے۔

چینی شہریوں پر حملہ

دسمبر 2022 میں کابل کے لانگن ہوٹل پر داعش خراسان نے حملہ کیا۔ ہوٹل میں چینی شہری بھی مقیم تھے۔ طالبان حکام نے بتایا کہ ان کی فورسز نے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

اس واقعے کے چند ہفتوں بعد، 5 جنوری 2023 کو طالبان حکومت نے ایک چینی کمپنی کے ساتھ آمو دریا کے علاقے میں تیل نکالنے کا معاہدہ کیا۔ کمپنی نے پہلے سال 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ طالبان حکام کے مطابق، یہ سرمایہ کاری تین سال میں 54 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی تھی۔

ان واقعات کی زمانی ترتیب نے طالبان کی سکیورٹی ذمہ داریوں پر بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم، حملے اور معاہدے کے درمیان براہِ راست تعلق کا کوئی ثبوت ان تاریخوں سے خودبخود ثابت نہیں ہوتا۔ چین کے معاشی مفادات اور افغانستان کے قدرتی وسائل بھی اس معاہدے کے اہم پہلو تھے۔

روسی سفارت کاروں کی ہلاکت

پانچ ستمبر 2022 کو کابل میں روسی سفارت خانے کے قریب خودکش حملہ ہوا۔ روسی حکام کے مطابق، اس حملے میں سفارت خانے کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ افغان شہری بھی اس واقعے میں جان سے گئے۔ داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

اس واقعے کے تقریباً تین ہفتے بعد، 28 ستمبر کو روس اور طالبان کے درمیان ایندھن، گیس اور گندم کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ سامنے آیا۔ معاہدے کے تحت افغانستان کے لیے روس سے پیٹرول، ڈیزل، مائع گیس اور گندم درآمد کرنے کا منصوبہ تھا۔

یہ معاہدہ افغانستان کی معاشی مشکلات اور تجارتی شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنے کی کوششوں کے تناظر میں بھی اہم تھا۔ اس لیے اسے صرف سفارتی فائدے یا دہشت گردی کے واقعے کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ البتہ، ایسے معاہدوں کے ساتھ غیر ملکی شہریوں کے تحفظ اور سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

طالبان کے دعوؤں کے لیے چیلنج

طالبان حکومت افغانستان میں داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس کے باوجود، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس اس گروہ کی مسلسل موجودگی اور حملوں کی صلاحیت پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔

جنوری 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق، داعش خراسان طالبان حکام، اقلیتوں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور غیر ملکی شہریوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گروہ کی مسلسل سرگرمیاں طالبان کی اسے ختم کرنے کی کوششوں میں موجود خامیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس صورتِ حال سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کا مسئلہ صرف حملوں کی تعداد تک محدود نہیں۔ دہشت گرد گروہوں کی بھرتی، مالی وسائل، خفیہ نیٹ ورک اور سرحد پار روابط بھی اہم ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، شفاف کارروائیوں اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔

انسدادِ دہشت گردی پالیسی

طالبان حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کو کس حد تک روک سکتی ہے۔ کسی حملے کے بعد حملہ آوروں کو ہلاک کرنا فوری کارروائی ہوسکتی ہے۔ لیکن طویل مدتی کامیابی کے لیے ان گروہوں کے نیٹ ورک اور وسائل کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔

چین اور روس کے ساتھ تجارتی معاہدے افغانستان کی معیشت کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ تاہم، معاشی تعاون کو سکیورٹی کی کارکردگی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ غیر ملکی شہریوں اور سفارتی عملے کا تحفظ ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اہم مسئلہ ہے۔ اگر یہ گروہ افغان سرزمین سے باہر حملوں کی صلاحیت برقرار رکھتے ہیں تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

معاہدوں کی جواب دہی

افغانستان کے قدرتی وسائل، تجارتی راستے اور علاقائی محلِ وقوع چین اور روس سمیت کئی ممالک کے لیے اہم ہیں۔ اسی لیے طالبان حکومت کے ساتھ معاشی روابط کو صرف سکیورٹی صورتِ حال کے ایک پہلو سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

تاہم، سفارتی تعلقات اور تجارتی معاہدوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف عملی پیش رفت کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ طالبان حکومت کو اپنی سکیورٹی پالیسی کے نتائج واضح کرنے چاہییں۔ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ داعش خراسان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے کون سے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ طالبان نے چین اور روس کے ساتھ معاہدے کیوں کیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ شہریوں کا تحفظ اور دہشت گردی کے خطرات میں کمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے؟ اس کا جواب بیانات سے نہیں، بلکہ قابلِ تصدیق شواہد اور عملی نتائج سے ملے گا۔

دیکھیے: پاکپتن میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، ٹی ٹی پی کا اہم کارندہ گرفتار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *