افغانستان کے صوبے پنجشیر کے علاقے ‘ٹانخو’ میں طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تاجک اکثریتی آبادی والے اس علاقے میں طالبان نے بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں، جس سے وہاں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
نوجوانوں پر تشدد
رپورٹس کے مطابق طالبان فورسز کی جانب سے علاقے کے نوجوانوں کو بلاجواز حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کا مقصد علاقے میں مزاحمت کے امکان کو ختم کرنا اور مقامی نوجوانوں میں خوف پھیلانا ہے۔
بزرگوں کی تذلیل اور اجتماعی سزا
صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ انٹیلیجنس یونٹس نے مقامی کمیونٹی کے معززین اور بزرگوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ بزرگوں کو حراست میں لے کر نہ صرف ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں بدنام کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد علاقے کی روایتی مقامی قیادت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ اجتماعی سزا کے خوف سے عوام کو طالبان کی اطاعت پر مجبور کیا جا سکے۔
یہ اقدامات پنجشیر میں جاری کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جہاں پہلے ہی مقامی آبادی کے ساتھ طالبان کے رویے پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔