افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع رغستان کے طالبان ضلعی گورنر قاری محمد عاصف ولد ظفر محمد کو جنسی بلیک میلنگ اور فراڈ کے ایک کیس میں نئے قانون کے تحت بغیر کسی کاروائی کے رہا کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق قاری محمد عاصف نے ضلع داراز کے طالبان لیڈر مولانا حمید اللہ انصاری کے ساتھ مل کر طالبان اہلکاروں پر مشتمل پانچ رکنی گروہ تشکیل دیا، جس پر جنسی بلیک میلنگ کے ذریعے مالدار افراد سے رقوم وصول کرنے کا الزام ہے۔ سورسز کا کہنا ہے کہ گروہ میں شامل ایک خاتون کے ذریعے بعض منی ایکسچینجرز کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر حاصل کی گئیں اور انہیں استعمال کرتے ہوئے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
سورسز کے مطابق ایک واقعے میں بدخشاں کے ایک سراف انور خان ولد بای مراد کو مبینہ طور پر جال میں پھنسا کر ان کی ویڈیوز اور تصاویر حاصل کی گئیں، جس کے بعد قاری محمد عاصف کے حکم پر ان سے 50 ہزار امریکی ڈالر وصول کیے گئے۔
یہ معاملہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب قاری محمد عاصف پر اسی خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کا الزام سامنے آیا، جس پر خاتون کے اہل خانہ نے فیض آباد میں صوبائی قاضی کی عدالت میں شکایت درج کروائی۔ بعد ازاں طالبان انٹیلی جنس نے خاتون اور مولانا حمید اللہ انصاری کو گرفتار کر لیا۔
سورسز کے مطابق اس نیٹ ورک کے مبینہ سربراہ قاری محمد عاصف کو نئے قانون کے تحت رہا کر دیا گیا، جبکہ مولانا حمید اللہ انصاری کو بھی بعد میں رہا کر دیا گیا۔ خاتون اس وقت زیر حراست ہے۔ اطلاعات کے مطابق قاری محمد عاصف کا تعلق بدخشاں کے طالبان گورنر محمد اسماعیل غزنوی کے گروہ سے بتایا جاتا ہے۔
دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت