...
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں

March 22, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ضلع کرم میں جوانوں کے ساتھ عید مناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کو ملکی سلامتی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

March 22, 2026

ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور بحرِ ہند میں امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنی جنگی طاقت کا لوہا منوا لیا، جبکہ اسرائیل پر بھی میزائل حملوں میں بھاری نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے

March 22, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی حتمی مہلت دیتے ہوئے ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی امریکی تنصیبات پر حملے کا انتباہ جاری کیا ہے

March 22, 2026

نورستان کے ضلع کامدیش میں پاکستانی فورسز کی جانب سے مبینہ گولہ باری اور جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ خبریں سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہی

March 22, 2026

دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

طالبان دور میں سزاؤں کا طوفان:ایک سال میں تقریباً 1200 افراد کو کوڑے اور متعدد کو عوامی پھانسیاں دی گئیں، عالمی تشویش میں اضافہ

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں
طالبان حکومت میں بڑھتے ہوئے مظالم

رپورٹس کے مطابق 2025 میں کم از کم 170 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 140 سے زائد خواتین اسی نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کر چکی ہیں

March 22, 2026

خواتین بھی نشانہ، عوامی پھانسیاں اور اسٹیڈیم میں سزائیں، افغانستان میں خوف کی فضا گہری

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت جسمانی سزاؤں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف ایک سال میں تقریباً 1,200 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جبکہ ماہرین اسے خوف پر مبنی نظام کی مضبوطی قرار دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت مختلف ذرائع کے مطابق مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم 1,186 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ صرف 2025 میں ہی 1,118 سے زائد افراد کو “غیر اسلامی افعال” کے الزامات پر سزا دی گئی۔ ان سزاؤں میں منشیات کا استعمال، چوری، زنا اور ہم جنس پرستی جیسے الزامات شامل تھے۔

ریکارڈ اضافہ: سزائیں تقریباً دگنی ہو گئیں

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 2025 میں 1,100 سے زائد افراد کو کوڑے مارے گئے جن میں 940 مرد اور 170 خواتین شامل تھیں۔ یہ تعداد 2024 کے 567 کیسز کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو طالبان دور میں بڑھتی ہوئی سختی کی واضح علامت ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں, جو اس رجحان میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

پورے افغانستان میں سزاؤں کا پھیلاؤ

یہ سزائیں کابل، قندھار، ہرات، ننگرہار سمیت درجنوں صوبوں میں دی گئیں، اور اکثر انہیں عوامی مقامات، حتیٰ کہ اسٹیڈیمز میں نافذ کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مناظر معاشرے کو تشدد کا عادی بنا رہے ہیں اور اجتماعی سطح پر حساسیت ختم ہو رہی ہے

خواتین پر بڑھتا دباؤ

رپورٹس کے مطابق 2025 میں کم از کم 170 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 140 سے زائد خواتین اسی نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کر چکی ہیں۔

خواتین کو اکثر “گھر سے بھاگنے” یا “غیر قانونی تعلقات” جیسے الزامات پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں صنفی امتیاز کی بدترین مثال قرار دیتی ہیں۔

عوامی پھانسیاں اور خوف کا پیغام

سال 2025 میں کم از کم چھ عوامی پھانسیاں بھی دی گئیں، جن میں سے ایک واقعہ خوست کے اسٹیڈیم میں پیش آیا جہاں ہزاروں افراد کے سامنے ایک شخص کو سزائے موت دی گئی۔

ان سزاؤں کو طالبان “قصاص” کا حصہ قرار دیتے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات معاشرے میں خوف کو بطور پالیسی نافذ کرنے کے مترادف ہیں۔

اختلاف رائے بھی جرم، نیا قانون مزید سخت

طالبان نے اس عرصے میں نیا تعزیری قانون بھی متعارف کروایا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ادارے یوناما کے مطابق صرف اکتوبر سے دسمبر 2025 کے دوران 287 جسمانی سزائیں ریکارڈ ہوئیں، جن کے ساتھ تشدد اور من مانی گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔

عالمی ردعمل: “یہ سزائیں نہیں، تشدد ہے”

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بشمول ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ، نے ان سزاؤں کو کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں بلکہ افغانستان کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

قانون یا خوف کی حکمرانی؟

افغانستان میں بڑھتی ہوئی جسمانی سزائیں محض عدالتی عمل نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں، اختلاف کی گنجائش کم اور خوف کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

یہ نظام استحکام لانے کا دعوی کرتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ایسا نظام ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا نظر آرہا ہے جہاں خاموشی ہی بقا کی واحد شرط بن جائے گی۔

دیکھئیے:ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر 48 گھنٹوں میں فیصلہ کُن کاروائی کا اعلان

متعلقہ مضامین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ضلع کرم میں جوانوں کے ساتھ عید مناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کو ملکی سلامتی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

March 22, 2026

ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور بحرِ ہند میں امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنی جنگی طاقت کا لوہا منوا لیا، جبکہ اسرائیل پر بھی میزائل حملوں میں بھاری نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے

March 22, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی حتمی مہلت دیتے ہوئے ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی امریکی تنصیبات پر حملے کا انتباہ جاری کیا ہے

March 22, 2026

نورستان کے ضلع کامدیش میں پاکستانی فورسز کی جانب سے مبینہ گولہ باری اور جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ خبریں سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہی

March 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.