خواتین بھی نشانہ، عوامی پھانسیاں اور اسٹیڈیم میں سزائیں، افغانستان میں خوف کی فضا گہری
کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت جسمانی سزاؤں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف ایک سال میں تقریباً 1,200 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جبکہ ماہرین اسے خوف پر مبنی نظام کی مضبوطی قرار دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ سمیت مختلف ذرائع کے مطابق مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم 1,186 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ صرف 2025 میں ہی 1,118 سے زائد افراد کو “غیر اسلامی افعال” کے الزامات پر سزا دی گئی۔ ان سزاؤں میں منشیات کا استعمال، چوری، زنا اور ہم جنس پرستی جیسے الزامات شامل تھے۔
ریکارڈ اضافہ: سزائیں تقریباً دگنی ہو گئیں
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 2025 میں 1,100 سے زائد افراد کو کوڑے مارے گئے جن میں 940 مرد اور 170 خواتین شامل تھیں۔ یہ تعداد 2024 کے 567 کیسز کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو طالبان دور میں بڑھتی ہوئی سختی کی واضح علامت ہے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں, جو اس رجحان میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پورے افغانستان میں سزاؤں کا پھیلاؤ
یہ سزائیں کابل، قندھار، ہرات، ننگرہار سمیت درجنوں صوبوں میں دی گئیں، اور اکثر انہیں عوامی مقامات، حتیٰ کہ اسٹیڈیمز میں نافذ کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مناظر معاشرے کو تشدد کا عادی بنا رہے ہیں اور اجتماعی سطح پر حساسیت ختم ہو رہی ہے
خواتین پر بڑھتا دباؤ
رپورٹس کے مطابق 2025 میں کم از کم 170 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 140 سے زائد خواتین اسی نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کر چکی ہیں۔
خواتین کو اکثر “گھر سے بھاگنے” یا “غیر قانونی تعلقات” جیسے الزامات پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں صنفی امتیاز کی بدترین مثال قرار دیتی ہیں۔
عوامی پھانسیاں اور خوف کا پیغام
سال 2025 میں کم از کم چھ عوامی پھانسیاں بھی دی گئیں، جن میں سے ایک واقعہ خوست کے اسٹیڈیم میں پیش آیا جہاں ہزاروں افراد کے سامنے ایک شخص کو سزائے موت دی گئی۔
ان سزاؤں کو طالبان “قصاص” کا حصہ قرار دیتے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات معاشرے میں خوف کو بطور پالیسی نافذ کرنے کے مترادف ہیں۔
اختلاف رائے بھی جرم، نیا قانون مزید سخت
طالبان نے اس عرصے میں نیا تعزیری قانون بھی متعارف کروایا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔
اقوام متحدہ کے ادارے یوناما کے مطابق صرف اکتوبر سے دسمبر 2025 کے دوران 287 جسمانی سزائیں ریکارڈ ہوئیں، جن کے ساتھ تشدد اور من مانی گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔
عالمی ردعمل: “یہ سزائیں نہیں، تشدد ہے”
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بشمول ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ، نے ان سزاؤں کو کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں بلکہ افغانستان کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
قانون یا خوف کی حکمرانی؟
افغانستان میں بڑھتی ہوئی جسمانی سزائیں محض عدالتی عمل نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں، اختلاف کی گنجائش کم اور خوف کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
یہ نظام استحکام لانے کا دعوی کرتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ایسا نظام ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا نظر آرہا ہے جہاں خاموشی ہی بقا کی واحد شرط بن جائے گی۔
دیکھئیے:ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر 48 گھنٹوں میں فیصلہ کُن کاروائی کا اعلان