"> طالبان حکومت میں اندرونی اختلافات اور ملا ہبت اللہ کا نیا فرمان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان میں اندرونی پھوٹ: ملا ہیبت اللہ کا عید خطبے میں غیر مشروط اطاعت پر زور

طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں عوام پر اندھی اطاعت لازم قرار دے دی ہے، جسے ماہرین نے اندرونی اختلافات اور اقتدار بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں عوام پر اندھی اطاعت لازم قرار دے دی ہے، جسے ماہرین نے اندرونی اختلافات اور اقتدار بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں غیر مشروط اطاعت کا مذہبی فرمان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امیر کی نافرمانی جاہلیت کی موت اور ملک میں انتشار کا سبب بنے گی۔

May 30, 2026

کابل: طالبان حکومت کے اندرونی حلقوں میں دراڑیں اور سنگین اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کا واضح عکس عید کے موقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔ افغان امور کے مبصرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے مسلسل غیر مشروط اطاعت پر اصرار اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امارتِ اسلامیہ کے اندرونی دھڑوں میں شدید ناراضگی اور بغاوت کے اثرات گہرے ہو چکے ہیں، جسے دبانے کے لیے قندھار الائنمنٹ اب مذہبی فرامان کا سہارا لے رہی ہے۔

اطاعت کا فرمان

قندھار میں سخت ترین سکیورٹی حصار کے اندر عید کا خطبہ دیتے ہوئے طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے افغان عوام اور اپنے عہدیداروں پر غیر مشروط اور اندھی اطاعت مسلط کرنے کے لیے ایک نیا مذہبی فرمان جاری کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص بھی امیر کی بیعت اور اطاعت کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔

انہوں نے مزید اضافہ کیا کہ اسلام سے قبل بتوں کی پوجا کرنے والوں کی موت جاہلیت کی موت تھی اور ایسی موت بدترین موت ہے۔ ملا ہیبت اللہ نے واضح کیا کہ ان کی ہدایات اور احکامات سے انحراف کو مذہبی نافرمانی تصور کیا جائے گا۔

قندھار اور کابل کے مابین دراڑیں

بین الاقوامی ماہرینِ سلامتی اور افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ ملا ہبت اللہ کی شدید گھبراہٹ کی اصل وجہ طالبان حکومت کے اندرونی دھڑوں کے مابین بڑھتی ہوئی شدید بغاوت اور سنگین اختلافات ہیں۔ مبصرین کے مطابق امیر کی جانب سے بار بار غیر مشروط اطاعت کا تقاضا ظاہر کرتا ہے کہ قندھار (جہاں امیر مقیم ہیں) اور کابل (جہاں حکومت کے اہم وزراء موجود ہیں) کے مابین خلیج بہت گہری ہو چکی ہے۔ سراج الدین حقانی سمیت کابل حکومت کے متعدد سینیئر وزراء اور رہنما پہلے ہی ملا ہبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں کو علانیہ اور خفیہ طور پر مسترد کر چکے ہیں۔

نافرمانی پر انتشار کی دھمکی

طالبان امیر نے اپنے خطبے میں خبردار کیا ہے کہ اگر عوام اور حکومتی ارکان نے افغان حکومت کی اطاعت نہ کی تو ملک میں شدید بے امنی، بدامنی اور انتشار سر اٹھائے گا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امیر کی طرف سے ایسا سخت موقف سامنے آیا ہو؛ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس سے قبل 17 اپریل کو وزارتِ خزانہ کے حکام کو جاری کردہ ایک بیان میں بھی ملا ہبت اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میری اطاعت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے مماثل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اپنی طاقت اور اقتدار کو بچانے کے لیے ملا ہبت اللہ کی جانب سے مذہب کا یہ سیاسی استعمال ان کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت کا عکاس ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *