اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی سولہویں رپورٹ افغانستان میں طالبان کے تحت قائم سیاسی و انتظامی نظام کی اب تک کی سب سے مستند اور جامع بین الاقوامی تشخیص قرار دی جا سکتی ہے۔ رپورٹ ایک ایسے حکومتی ڈھانچے کی تصویر پیش کرتی ہے جو بظاہر نظم و ضبط اور استحکام کے دعوے پر مبنی ہے، مگر اندرونی طور پر شدید مرکزیت، سخت نظریاتی کنٹرول، ادارہ جاتی کمزوری اور پوشیدہ تضادات کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے مرکز میں امیرالمومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ ہیں، جو کسی علامتی منصب پر فائز نہیں بلکہ عملی طور پر تمام تر فیصلوں کے واحد منبع ہیں۔ ان کی حکمرانی رسمی ریاستی اداروں کے بجائے مذہبی فرامین کے ذریعے چلتی ہے۔ قندھار طالبان حکومت کا اصل سیاسی مرکز بن چکا ہے، جہاں سے ملک بھر کے لیے فیصلے صادر ہوتے ہیں، جبکہ کابل محض انتظامی سطح تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اخوندزادہ کی جسمانی تنہائی اور پالیسی مباحث سے دوری اس امر کی عکاس ہے کہ طالبان حکومت مشاورت یا اجتماعی فیصلہ سازی کے کسی جدید تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
فیصلہ سازی کا یہ سخت مرکزیت پر مبنی نظام ہر صوبے میں علماء کونسلوں کے قیام کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا ہے، جو براہِ راست قندھار کو جواب دہ ہیں۔ یہ کونسلیں عوامی نمائندگی یا مقامی ضروریات کی ترجمانی کے بجائے نظریاتی نگرانی کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اختلافِ رائے کو نہ صرف ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ اسے سرعام کچل دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم یا حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے سینئر طالبان رہنماؤں جن میں شیر محمد عباس ستانکزئی اور ممتاز مذہبی عالم عبدالصمیع غزنوی شامل ہیں، کو عہدوں سے ہٹایا گیا، نظر بند کیا گیا یا جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔
اگرچہ طالبان قیادت بظاہر اتحاد کا تاثر دیتی ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اس پردے کے پیچھے موجود گہرے اختلافات کو بھی بے عیاں کرتی ہے۔ قندھار میں موجود سخت گیر مذہبی قیادت اور کابل میں نسبتاً عملی سوچ رکھنے والے دھڑوں، بالخصوص سراج الدین حقانی کی قیادت میں حقانی نیٹ ورک، کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے نہ صرف حکومتی ناکامیوں بلکہ خواتین کی تعلیم پر پابندی جیسے فیصلوں پر بھی اندرونی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سراج الدین حقانی کی 2025 کے اوائل میں طویل غیر حاضری اور واپسی کے بعد محتاط بیانات اس اندرونی طاقت کے توازن کو ظاہر کرتے ہیں، مگر اقوامِ متحدہ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ کسی واضح جانشینی منصوبے کی عدم موجودگی طالبان حکومت کے لیے ایک خاموش مگر خطرناک کمزوری ہے۔
حکمرانی کے تصور میں طالبان عوامی رضامندی یا جوابدہی کو کوئی اہمیت و وقعت نہیں دیتے۔ حکومتی فیصلے غیر شفاف، یکطرفہ اور عوام سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں پورے افغانستان میں اچانک انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ، جس کی نہ کوئی وضاحت اور نہ ہی پیشگی اطلاع د گئی، اس آمرانہ طرزِ حکمرانی کی واضح مثال ہے۔ بعد ازاں اس فیصلے کا جزوی طور پر واپس لیا جانا اور اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے اس حکم کو چیلنج کیا جانا خود طالبان کی صفوں میں موجود کشیدگی کو عیاں کرتا ہے۔
سیکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ ایک ملے جلے منظرنامے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ مجموعی تشدد میں 2021 سے پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے اور داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں نے اسے کمزور ضرور کیا ہے، تاہم یہ گروہ اب بھی ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں متحرک ہے اور بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بیس سے زائد دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم ہیں، جن میں سے اکثر کے طالبان حکومت کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ سابق جنگجوؤں کو سیکیورٹی فورسز میں ضم کرنا وقتی طور پر نفری بڑھا سکتا ہے، مگر اس سے نظریاتی انتہا پسندی اور اندرونی عدم استحکام کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں طالبان کی پالیسیاں رپورٹ کا سب سے سنگین انکشاف قرار دی جا سکتی ہیں۔ نظامِ تعلیم کو براہِ راست اخوندزادہ کے ماتحت کر کے اسے نظریاتی تلقین کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ نصاب سے جمہوریت، آئین، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، اخلاقیات اور بین الاقوامی اداروں سے متعلق تمام حوالہ جات نکال دیے گئے ہیں۔ کم از کم 18 تعلیمی شعبے مکمل طور پر ممنوع قرار دیے گئے، جبکہ 200 سے زائد مضامین کو طالبان نظریے کے مطابق ازسرِنو تحریر کر کے محدود اجازت دی گئی۔ سیاسیات، عمرانیات، میڈیا، قانون، معیشت اور صنفی مطالعات جیسے شعبے عملاً ختم یا مسخ کر دیے گئے ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی نہ صرف افغانستان کی مذہبی اور ثقافتی روایات سے متصادم ہے بلکہ اس کے معاشی نتائج بھی طویل المدت اور تباہ کن ہوں گے۔
معاشی محاذ پر طالبان حکومت شدید دباؤ میں ہے۔ 2025 کے اوائل میں جی ڈی پی میں نمایاں کمی، تقریباً 75 فیصد بے روزگاری اور 70 فیصد سے زائد آبادی کا انسانی امداد پر انحصار ایک خطرناک تصویر پیش کرتا ہے۔ ساڑھے چار ملین سے زائد افغان شہریوں کی جبری واپسی اور خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیاں اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں، اگرچہ داخلی محصولات میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا خلاصہ واضح ہے کہ طالبان نے طاقت کے ذریعے ایک قسم کا نظم تو قائم کر لیا ہے، مگر یہ استحکام نازک، عارضی اور جبر پر مبنی ہے۔ یہ نظام شمولیت، عوامی اعتماد اور پائیدار ادارہ سازی کے بجائے خوف، نظریاتی ہم رنگی اور اختلاف کے خاتمے پر کھڑا ہے۔ پاکستان اور پورے خطے کے لیے یہ صورتحال نہایت اہم ہے، کیونکہ ایک اندرونی طور پر سخت گیر، معاشی طور پر کمزور اور اصلاحات سے مزاحم افغانستان طویل مدت میں نہ صرف اپنے عوام بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک مسلسل چیلنج بنا رہے گا۔