امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے کابل میں قابض طالبان رجیم کے یکطرفہ بیانیے کو جوں کا توں شائع کرنے پر شدید تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی میڈیا ایک ایسے مسلح گروہ کے من گھڑت دعوؤں کو فروغ دے رہا ہے جس نے افغانستان پر عوام کی مرضی کے خلاف قبضہ کر رکھا ہے۔
طالبان رجیم سن دو ہزار بیس کے دوحہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہو چکی ہے۔ کابل انتظامیہ خطے میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم، آئی یو ایم اور القاعدہ جیسی متعدد کالعدم تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ ان ہی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں ہزاروں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
طالبان کی جانب سے چھبیس اور ستائیس ستمبر کو دراندازی کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوؤں میں واضح تضاد موجود ہے۔ پہلے گرفتار شہریوں کو سابق افغان فوج کا حصہ قرار دیا گیا، بعد ازاں اپنا ہی بیان بدل کر انہیں داعش خراسان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
حراست میں لیے گئے مبینہ جنگجوؤں کے ویڈیوز نے طالبان کے اس پراپیگنڈا کی قلعی کھول دی۔ سخت اور سرد پہاڑی علاقوں میں لڑنے والے عناصر کے بجائے ان ویڈیوز میں استری شدہ نفیس ملبوسات پہنے غیر مسلح افراد دکھائے گئے، جو زمینی حالات سے قطعی میل نہیں کھاتے۔
جون سے بدخشاں، کنڑ اور نورستان میں سونے کی کانوں پر جبری قبضے کے خلاف عوامی ردعمل عروج پر ہے۔ طالبان رجیم اپنے اندرونی بحران اور انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے جھوٹے دعوؤں اور مسلسل پراپیگنڈا کا سہارا لے رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کو ان بے بنیاد دعوؤں کی تشہیر سے گریز کرنا چاہیے۔