افغانستان کے صوبہ ہرات میں طالبان حکومت نے عوامی زندگی پر نئے سخت قوانین کا نفاذ شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت جامعات، ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر خواتین اور نوجوانوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر سخت نگرانی اور فوری سزاؤں کا نظام رائج کیا جا رہا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حالیہ اقدامات کے تحت روزمرہ زندگی کے معمولات اب ریاستی مداخلت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محکمے کے محتسبین صوبے بھر میں چیک پوسٹیں قائم کرکے خواتین کے لباس، خاص طور پر غیر افغانی طرز کے حجاب پر کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔
ہسپتالوں اور جامعات پر پابندیاں
مقامی ذرائع کے مطابق متعدد لڑکیوں اور خواتین کو بغیر محرم کے سفر کرنے یا غیر مخصوص حجاب پہننے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ایسی خواتین کو اٹھانے والے ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیوروں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈرائیور خواتین مسافروں کو لے جانے سے گریز کرنے لگے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ کئی خواتین کو لمبے فاصلے پیدل طے کرنے یا بس اڈوں پر گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
ہسپتالوں تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہرات ریجنل ہسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ برقع نہ پہننے والی خواتین، چاہے وہ مریض ہوں یا طبی عملہ، کو ہسپتال میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک واقعے میں ایمرجنسی وارڈ کی خاتون ڈاکٹر پر طالبان اہلکار کے ہاتھوں تشدد کی اطلاعات ہیں، جس پر طبی عملے نے خاموش احتجاج بھی کیا۔
تعلیمی اداروں میں مداخلت
ہرات یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں گریجویشن تقریب کے دوران محتسبین نے اچانک مداخلت کرتے ہوئے تقریب روک دی اور طلبہ کو حاضرین کے سامنے ٹائیاں اتارنے پر مجبور کیا۔ یہ اقدام طالبان کے اس اعلان کے بعد کیا گیا ہے کہ ٹائی پہننا “مغربی ثقافت کی علامت” ہے اور یہ افغانستان میں پچھلے پانچ سال سے ممنوع ہے۔
ادھر طالبان حکام نے ہرات کے جبرائیل علاقے میں چار نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو برطانوی ڈراما سیریز “پیکی بلائنڈرز” کے کرداروں کی نقل کر رہے تھے۔ وزارت امر بالمعروف کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے اسے “مغربی ثقافت کی اندھی تقلید کے خلاف کارروائی” قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کے افغانستان میں انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے ہرات میں ایک خاتون تائیکوانڈو کوچ کی مسلسل حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ان پابندیوں کی بنیاد اگست 2024 میں طالبان سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے جاری کردہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قانون میں دی گئی وسیع اختیارات ہیں، جس کے بعد سے خواتین کے بغیر محرم سفر، موسیقی، تفریحی سرگرمیوں اور جانداروں کی تصاویر کی اشاعت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
طالبان کا مؤقف
وزارت امر بالمعروف کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے ایکس پر جاری بیان میں محتسبین کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “جو کچھ ہوا وہ طاقت یا جبر کے بغیر تھا۔” انہوں نے طالبان پر تنقید کرنے والوں کو “غیر ملکی عناصر کے لیے کام کرنے والے کرائے کے ایجنٹ” قرار دیا۔ سیف الاسلام خیبر کا مؤقف ہے کہ محتسبین کا کام “محض نصیحت نہیں بلکہ قانون کا نفاذ ہے۔”
صوبائی زندگی پر اثرات
ان پابندیوں کے نتیجے میں ہرات سمیت متعدد صوبوں میں ٹی وی چینلز اور مقامی اخبارات بند ہو چکے ہیں، جبکہ عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، بلکہ معاشرے کے نیم صحت یاب معاشی اور سماجی ڈھانچے کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔