"> طالبان کا عمران خان کی حمایت کا اعتراف: 9 مئی اور ٹی ٹی پی پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عمران خان گریٹر افغانستان کے ایجنڈے کے لیے موزوں تھے، سابق طالبان وزیر کا بیان

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
طالبان کا عمران خان کی حمایت کا اعتراف: 9 مئی اور ٹی ٹی پی پر سوالات

سابق طالبان رہنما کا عمران خان کو افغانستان کے لیے موزوں قرار دینے کا بیان، گریٹر افغانستان کے دعوے اور 9 مئی کے واقعات پر نئے سوالات اٹھ گئے۔

August 31, 2026

سابق افغان طالبان وزیر کا اعتراف کہ عمران خان گریٹر افغانستان کے مقصد کے لیے موزوں تھے، ملکی سلامتی کے لیے تشویشناک ہے۔ ایک طرف ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سرحدی سکیورٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں، تو دوسری طرف اندرونی سیاست کے نام پر دفاعی نظام اور قومی املاک پر حملے کیے گئے۔

طالبان کی حکمتِ عملی ہمیشہ سے ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی رہی ہے۔ عمران خان کے دور میں قیدیوں کی رہائی اور ہزاروں جنگجوؤں کی آبادی کاری کے فیصلوں نے دہشت گردی کو ہوا دی۔ اسی کا خمیازہ آج سکیورٹی فورسز اور شہری بھگت رہے ہیں۔

بیرونی خطرات کے ساتھ اندرونی محاذ پر بھی یہی انداز دیکھا گیا۔ 9 مئی کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ، لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کو نذرِ آتش کرنا اور املاک کی توڑ پھوڑ اسی اندرونی یلغار کی مثالیں ہیں۔ ایک طرف ٹی ٹی پی کے ذریعے سرحدی امن تباہ کیا گیا، تو دوسری طرف سیاسی کارکنوں سے حساس تنصیبات پر حملہ کرایا گیا۔

طالبان کے عمران خان کی حمایت پر مبنی بیانات اور 9 مئی کے داخلی حملے ایک ہی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور عوام میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ دشمن عناصر کی یہ پسِ پردہ حمایت ملکی سلامتی کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

دیکھیے: قندھار میں این آئی ایف کی بڑی کارروائی، طالبان کے نائب انٹیلی جنس چیف ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *