امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

بنیادی تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ ایران سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا بلکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت بھی ختم کرے گا

April 12, 2026

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت میں رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میزبان ملک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

April 12, 2026

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

پاکستان نے بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فریقین جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

April 12, 2026

تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج: مظاہرین کا تمام جنگیں روکنے کا مطالبہ، سیاسی دباؤ میں اضافہ

نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اسرائیل مظاہرہ

نیتن یاہو شدید دباؤ کا شکار ہیں اور جنگی مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق “فاتح کو اپنی جیت بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی”، اور اب موجودہ حکومت کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

April 12, 2026

اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے تمام جنگیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران “جنگ روکو” اور “نسل کشی بند کرو” جیسے نعرے اور پلے کارڈز نمایاں رہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ خطے میں جاری عسکری کارروائیاں فوری بند کی جائیں۔ تاہم ان مظاہروں کے حجم اور اثرات سے متعلق آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب سابق اسرائیلی نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے کہا ہے کہ نیتن یاہو شدید دباؤ کا شکار ہیں اور جنگی مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق “فاتح کو اپنی جیت بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی”، اور اب موجودہ حکومت کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

ادھر نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اندرونی احتجاج اور بیرونی محاذ پر کشیدگی اسرائیلی قیادت کیلئے دوہرا چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دیکھئیے:مذاکرات ناکام نہیں ہوئے

متعلقہ مضامین

امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

بنیادی تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ ایران سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا بلکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت بھی ختم کرے گا

April 12, 2026

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت میں رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میزبان ملک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *