اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے تمام جنگیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران “جنگ روکو” اور “نسل کشی بند کرو” جیسے نعرے اور پلے کارڈز نمایاں رہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ خطے میں جاری عسکری کارروائیاں فوری بند کی جائیں۔ تاہم ان مظاہروں کے حجم اور اثرات سے متعلق آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب سابق اسرائیلی نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے کہا ہے کہ نیتن یاہو شدید دباؤ کا شکار ہیں اور جنگی مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق “فاتح کو اپنی جیت بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی”، اور اب موجودہ حکومت کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔
ادھر نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اندرونی احتجاج اور بیرونی محاذ پر کشیدگی اسرائیلی قیادت کیلئے دوہرا چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دیکھئیے:مذاکرات ناکام نہیں ہوئے