افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے اور خطے کے ممالک سمیت عالمی طاقتیں بھی اس بڑھتے ہوئے خطرے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین نہ صرف خطے میں پھیلتی ہوئی شدت پسندی کا مرکز بن رہی ہے بلکہ بیرونِ ملک دہشت گرد حملوں میں بھی اس کے روابط سامنے آ رہے ہیں۔ چند دن قبل تاجکستان میں چینی مزدوروں پر ہونے والا کوادکوپٹر حملہ، جس میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ اب کھلے عام اپنی کارروائیاں سرحد پار منتقل کر رہے ہیں۔
یہ حملہ افغانستان کی سرزمین سے کیا گیا، جو اس خدشے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو نہ صرف آزادانہ نقل و حرکت حاصل ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیٹ ورکس بھی فعال ہیں۔ اسی طرح 26 نومبر کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان تارک وطن کے ہاتھوں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں کی ہلاکت، اور امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر کا یہ انکشاف کہ حملہ آور افغانستان میں موجود گروہوں سے رابطے میں تھا، بین الاقوامی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجانے کے مترادف ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس، کوارٹرلی جائزوں اور سگار کی رپورٹس مسلسل اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد گروہ افغانستان میں نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ اپنی سرگرمیوں کو خطے سے باہر تک پھیلا رہے ہیں۔
نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ڈینش نائب مستقل نمائندہ سنڈرا جینسن لینڈی نے خبردار کیا کہ تحریک طالبان پاکستان خطے کے لیے سنگین سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً چھ ہزار ٹی ٹی پی کے جنگجو افغان سرزمین پر آزادانہ کام کر رہے ہیں اور انہیں کابل کی ڈی فیکٹو حکومت کی جانب سے مالی اور لاجسٹک سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ آن لائن پروپیگنڈا، بھرتی مہمات اور کرپٹو کرنسی کے استعمال کے ذریعے اپنی عالمی سرگرمیوں کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔
روس بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ روس کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوگو نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اور سرحد پار دراندازی کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ روس کے مستقل نمائندے واسیلی نبینزیا نے اقوام متحدہ میں بتایا کہ داعش خراسان ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے، دہشت گرد بیرونی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور یہ بھی امکان موجود ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے چھوڑے گئے اسلحے کا استعمال آئندہ کارروائیوں میں کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال خطے کے ساتھ ساتھ روس اور یورپی ممالک کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں، جن میں 6 ہزار ٹی ٹی پی کے، 3 ہزار داعش خراسان کے، 400 القاعدہ کے، 500 القاعدہ برصغیر کے، 300 اسلامی تحریک ازبکستان کے، 300 ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے، 300 تاجک جماعتِ انصار اللہ کے جبکہ دیگر 2 ہزار 500 جنگجو مختلف ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ شام اور عراق سے داعش کے جنگجو بڑی تعداد میں افغانستان منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض وسطی ایشیا کی ریاستوں تک رسائی کے لیے افغانستان کو بطور اسٹیجنگ پوائنٹ استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ فی الہند نے بھی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کر لیا ہے اور اس کی قیادت اسامہ محمود کے ہاتھوں میں ہے۔ مشرق وسطیٰ سے القاعدہ جزیرہ نما عرب کے جنگجو بھی افغانستان منتقل ہو رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان دوبارہ بین الاقوامی دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
افغان طالبان حکومت کی کمزوری اور انتظامی ناکامی اس صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد ہزاروں طالبان جنگجو بے روزگار ہو چکے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر گروہوں میں شامل ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت، معاشی بدحالی اور بے روزگاری نوجوانوں کو تیزی سے ان گروہوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ کابل حکومت نہ صرف نظریاتی طور پر ان گروہوں کے قریب ہے بلکہ اس کے پاس ان پر کوئی مؤثر کنٹرول بھی نہیں رہا۔ ایسے حالات میں افغانستان کے اندر موجود شدت پسند عناصر نہ صرف مقامی سطح پر کارروائیاں جاری رکھیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی محسوس کرائیں گے۔
اگر خطے کے ممالک نے مل کر افغانستان کی سرزمین سے پھوٹنے والی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تشکیل نہ دی تو پورے وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے آنے والے دن نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان، تاجکستان، چین، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں اس بڑھتے ہوئے خطرے کا پہلے سے سامنا کر رہی ہیں۔ عالمی طاقتیں بشمول امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک بھی افغانستان میں ابھرنے والی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ تاجکستان میں چینی مزدوروں پر حملہ اسی خطرے کی تازہ اور واضح مثال ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دہشت گرد گروہ ایک بار پھر سرحدوں سے کہیں آگے سوچنے اور کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
افغانستان کو دوبارہ عالمی دہشت گردی کے گڑھ میں تبدیل ہونے سے روکنا دنیا کے تمام طاقتور ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر اس لمحے غفلت برتی گئی تو آنے والے برسوں میں نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا ایک نئی دہشت گردی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے، جس کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔