وادیٔ تیرہ میں سکیورٹی آپریشن کے پیشِ نظر ہزاروں خاندانوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ تاہم غیر منظم انخلاء کے باعث سڑکوں پر ٹریفک جام کی صورت حال، شدید سردی میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات ناکافی ہیں، جن میں ناقص ٹرانسپورٹ بندوبست، خوراک کی قلّت اور طبی سہولیات کی عدمِ دستیابی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے فوری بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
𝗧𝗵𝗼𝘂𝘀𝗮𝗻𝗱𝘀 𝗙𝗹𝗲𝗲 𝗧𝗶𝗿𝗮𝗵 𝗩𝗮𝗹𝗹𝗲𝘆 𝗮𝘀 𝗦𝗲𝗰𝘂𝗿𝗶𝘁𝘆 𝗙𝗼𝗿𝗰𝗲𝘀 𝗣𝗿𝗲𝗽𝗮𝗿𝗲 𝗢𝗽𝗲𝗿𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 11, 2026
Thousands of families have begun evacuating the Tirah Valley in Khyber district of Khyber Pakhtunkhwa, as security forces prepare for a large scale operation… https://t.co/DKmyP18Fal pic.twitter.com/q15RitXui3
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج ممکنہ کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس کا مقصد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ اسلام سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کرنا ہے۔ تحقیقات کے مطابق ان گروہوں کے زیادہ تر جنگجو آپریشن سے پہلے ہی تیراہ وادی سے نکل چکے ہیں اور پشاور کے قرب و جوار سمیت مختلف مقامات سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔
سکیورٹی حکّام نے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ تاہم مقامی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ انخلا کے عمل کو زیادہ منظم اور تیز کیا جائے تاکہ ایک انسانی بحران سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق صورتحال پر نظر رکھنے اور ممکنہ دہشت گردوں کی منتقلی کو روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
دیکھیں: گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی