خیبر پختونخوا میں جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی ترقی کے انوکھے امتزاج نے ایک بار پھر کامیابی کی نئی داستان رقم کی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے ترجمان لطیف الرحمان نے تصدیق کی ہے کہ لوئر چترال کے مقامی شکاری ذیشان ناصر نے وادی ارکاری میں موجودہ ٹرافی ہنٹنگ سیزن کے دوران ایک شاندار 10 سالہ نر ہمالین آئی بیکس کا کامیاب شکار کیا ہے۔
رکارڈ ساز شکار
ترجمان محکمہ وائلڈ لائف لطیف الرحمان کے مطابق یہ ایک صحت مند نر آئی بیکس تھا جس کی عمر 10 سال تھی اور اس کے سینگوں کا سائز 43.5 انچ ناپا گیا ہے۔ یہ سائز اس جانور کو ایک غیر معمولی ٹرافی بناتا ہے۔ یہ شکار انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مخصوص کوٹے اور سخت ضوابط کے تحت انجام دیا گیا ہے۔
ٹرافی ہنٹنگ: تحفظ کا پائیدار ذریعہ
یہ شکار محض ایک کھیل نہیں بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے ایک جامع اور پائیدار ماڈل کا حصہ ہے۔ اس نظام کے تحت ہر ٹرافی ہنٹ کے بدلے ایک خاص فیس وصولی جاتی ہے، جس کا 80 فیصد حصہ براہ راست مقامی ویلیج کنزرویشن کمیٹیوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہ خطیر رقم مقامی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات، تعلیمی منصوبوں، پینے کے صاف پانی اور علاقائی ترقی کے دیگر کاموں پر خرچ کی جاتی ہے۔ لطیف الرحمان کا کہنا تھا جب مقامی آبادی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے علاقے میں رہنے والے جنگلی جانور ان کی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، تو وہ خود ہی ان کے سب سے بڑے محافظ بن جاتے ہیں۔ یہی اس سسٹم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
آبادی میں مسلسل اضافہ
محکمہ وائلڈ لائف کے اعداد و شمار کے مطابق، وادی ارکاری اور چترال کے دوسرے علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے نتیجے میں ہمالین آئی بیکس کی آبادی میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیز ٹرافی ہنٹنگ کا یہ نظام درحقیقت انواع کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ہم صرف انہی جانوروں کے شکار کی اجازت دیتے ہیں جو بوڑھے ہیں یا نسل کشی میں حصہ نہیں لے رہے، جس سے آبادی کی صحت مند نمو یقینی ہوتی ہے۔
دیکھیں: رواں سال پاکستان کا سیٹلائٹ اور فِن ٹیک کے ذریعے ڈیجیٹل انقلاب