واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ “مثبت اور نتیجہ خیز” مذاکرات کا دعویٰ کرتے ہوئے ایرانی توانائی تنصیبات پر مجوزہ حملے 5 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ایران نے ایسی کسی بات چیت کی تردید کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو روز کے دوران ایران کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ دفاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی انفرااسٹرکچر پر حملے عارضی طور پر روک دیے جائیں۔
Update |
— South Asia Times (@_southasiatimes) March 23, 2026
Trump Announces 5-Day Strike Pause on Truth Social, Citing Talks; Iran Denies Any ‘Productive Conversations’
A brief pause in escalation, but no shared version of events.
US President @realDonaldTrump announced on Truth Social a five-day postponement of planned… pic.twitter.com/2KVba6NxWm
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے اور بات چیت پورے ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان نہ کوئی براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق حملوں میں وقفہ کسی سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ خطے میں دباؤ، توانائی انفرااسٹرکچر کے خطرات اور مارکیٹ کی صورتحال کا نتیجہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ فوجی آپشنز صرف مؤخر کیے گئے ہیں، ختم نہیں ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور توانائی تنصیبات بدستور کشیدگی کے مرکزی نکات ہیں اور آئندہ چند دن صورتحال کے لیے اہم ہوں گے۔
دیکھئیے:ایران کا ٹرمپ کو طنزیہ جواب، ایران آرمی کے ترجمان کا پیغام عالمی توجہ کا مرکز بن گیا