واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے دو ہفتوں کیلئے معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کی جنگ بندی تجویز کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے، جبکہ ایران، امریکا اور اسرائیل بھی عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں اور مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر انہوں نے آج رات متوقع تباہ کن حملہ روک دیا، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو۔
BREAKING: TRUMP AGREES TO 2 WEEK IRAN CEASEFIRE pic.twitter.com/8MmANot7uV
— Rapid Report (@RapidReport2025) April 7, 2026
انہوں نے اعلان کیا کہ ایران پر بمباری اور عسکری کارروائیاں دو ہفتوں کیلئے معطل کی جا رہی ہیں اور یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی تاکہ سفارتی عمل کو موقع دیا جا سکے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا اپنے “تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے” اور اب ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل عمل سمجھا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ تر متنازع نکات پر پہلے ہی اتفاق رائے ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے اہم ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کے احترام میں جنگ بندی کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
قبل ازیں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایران کے ساتھ جنگ بندی کیلئے سرگرم رابطے کر رہے ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس عمل میں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی فعال سفارتکاری نے ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مذاکرات کے نتائج خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
دیکھئیے:وائٹ ہاؤس: ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ، ردعمل جلد متوقع؛ ایران بھی غور میں مصروف ہے