"> صدر ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، متعدد اعلی شخصیات عہدے سے برطرف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

صدر ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، متعدد اعلی شخصیات عہدے سے برطرف

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج سمیت 12 سے زائد جنرلز کو عہدوں سے برطرف کر دیا ہے
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج سمیت 12 سے زائد جنرلز کو عہدوں سے برطرف کر دیا ہے

صدر ٹرمپ کی ہدایت پر وزیرِ دفاع نے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرلز کو فارغ کر دیا۔ آرمی چیف رینڈی جارج کی مدتِ ملازمت ختم ہونے سے قبل ہی برطرفی

April 3, 2026

ٹرمپ انتظامیہ نے ملک کی عسکری قیادت میں ایک تاریخی اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک ہی دن میں 12 سے زائد اعلیٰ ترین جنرلز کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ برطرف کیے جانے والوں میں امریکی آرمی کے زمینی افواج کے کمانڈرز بھی شامل ہیں، جس نے واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

پینٹاگون نے باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ امریکی آرمی کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج اپنے عہدے سے الگ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی مدتِ ملازمت میں ابھی ایک سال باقی تھا، تاہم انہیں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے حکم پر فوری طور پر برطرف کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد فوج کے ڈھانچے کو صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق ڈھالنا اور نئی عسکری حکمتِ عملی کو نافذ کرنا ہے۔

سیاسی و انتظامی تبدیلیاں

عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے سویلین انتظامیہ میں بھی سخت فیصلے کیے ہیں۔ اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے، جن کی جگہ صدر کے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پام بونڈی کی برطرفی کی وجوہات میں ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان اور جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کا تنازع شامل ہے۔

اعلیٰ حکام میں بے چینی

واشنگٹن میں ہونے والی ان پے در پے برطرفیوں نے امریکی کابینہ اور ایف بی آئی جیسے حساس اداروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل اور سیکریٹری آرمی ڈینیئل ڈرسکل سمیت کئی دیگر اہم شخصیات کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ اقتدار کے آغاز میں ہی تمام اہم اداروں پر اپنی گرفت مکمل طور پر مضبوط کرنے کے لیے یہ سخت اقدامات کر رہے ہیں۔

دیکھیے: جنگ کے پھیلاؤ کے سنگین اثرات: ایران کی حکمت عملی، خلیجی خطہ اور عالمی خدشات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *