واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی اور بمباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تہران کی تجویز بھی مسترد کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ نومبر کے انتخابات کے بعد تہران پر بمباری کی نئی مہم شروع کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں فریق معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن تہران کی موجودہ شرائط واشنگٹن کو قبول نہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر پہلے سے مکمل کنٹرول حاصل ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل بدستور جاری ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے ایک سات روزہ امن منصوبہ واشنگٹن بھیجا تھا۔ اس منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی اور علاقائی جنگ بندی کی شرائط شامل تھیں۔
عباس عراقچی کے مطابق شرائط پوری ہونے پر سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو کھولا جانا تھا، جس کے بعد باہمی مذاکرات بحال ہو سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تہران کو ٹرمپ کا ابتدائی منفی ردعمل معلوم ہو چکا ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کا حتمی اور باضابطہ جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔