امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کی سات روزہ ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔

September 27, 2026

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے 96 گھنٹوں کے دوران متعدد انٹیلی جنس آپریشنز کرتے ہوئے 71 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

September 27, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سرکاری وسائل کی بندش کے بعد پی ٹی آئی اب لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں رہی۔

September 27, 2026

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے افغان طالبان کے بے بنیاد الزامات کی تشہیر نے پیشہ ورانہ صحافت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 27, 2026

کنڑ اور نورستان کی حالیہ جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کا افغان دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ شواہد کے مطابق یہ تنازع دراصل معدنی وسائل پر قبضے اور اندرونی مزاحمت کا نتیجہ ہے۔

September 27, 2026

صوبائی وزیر شفیع جان اور فتنہ الخوارج کے کمانڈر کے درمیان مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد لانگ مارچ کے التوا پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

September 27, 2026

ٹرمپ نے ایران کو مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کی سات روزہ ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔
ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان، ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیا ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تہران کی سات روزہ پیشکش مسترد کر دی ہے۔

September 27, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی اور بمباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تہران کی تجویز بھی مسترد کر دی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ نومبر کے انتخابات کے بعد تہران پر بمباری کی نئی مہم شروع کی جا سکتی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں فریق معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن تہران کی موجودہ شرائط واشنگٹن کو قبول نہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر پہلے سے مکمل کنٹرول حاصل ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل بدستور جاری ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے ایک سات روزہ امن منصوبہ واشنگٹن بھیجا تھا۔ اس منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی اور علاقائی جنگ بندی کی شرائط شامل تھیں۔

عباس عراقچی کے مطابق شرائط پوری ہونے پر سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو کھولا جانا تھا، جس کے بعد باہمی مذاکرات بحال ہو سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تہران کو ٹرمپ کا ابتدائی منفی ردعمل معلوم ہو چکا ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کا حتمی اور باضابطہ جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے 96 گھنٹوں کے دوران متعدد انٹیلی جنس آپریشنز کرتے ہوئے 71 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

September 27, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سرکاری وسائل کی بندش کے بعد پی ٹی آئی اب لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں رہی۔

September 27, 2026

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے افغان طالبان کے بے بنیاد الزامات کی تشہیر نے پیشہ ورانہ صحافت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 27, 2026

کنڑ اور نورستان کی حالیہ جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کا افغان دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ شواہد کے مطابق یہ تنازع دراصل معدنی وسائل پر قبضے اور اندرونی مزاحمت کا نتیجہ ہے۔

September 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *