"> دہشت گردی کی نئی لہر: ٹی ٹی جی نے کے پی کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا، سکیورٹی ادارے الرٹ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی کی نئی لہر: ٹی ٹی جی نے کے پی کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا، سکیورٹی ادارے الرٹ

خیبر پختونخوا میں دہشت گرد گروہ ٹی ٹی جی کا نیا جنگی کمانڈ اسٹرکچر فعال؛ ‘تلوار’ نامی کمانڈر کی سربراہی میں بنوں اور خیبر میں متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش، سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ
خیبر پختونخوا میں دہشت گرد گروہ ٹی ٹی جی کا نیا جنگی کمانڈ اسٹرکچر فعال؛ 'تلوار' نامی کمانڈر کی سربراہی میں بنوں اور خیبر میں متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش، سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ

ٹی ٹی جی کی جانب سے کے پی میں منظم 'زونل کمانڈ' اور جنگی مشینری کی تشکیل۔ ٹی ٹی پی اور مجلسِ عسکری کے گٹھ جوڑ سے سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر مہلک حملوں کا خطرہ

April 8, 2026

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دہشت گرد گروہ ‘ٹی ٹی جی’ نے صوبے میں اپنی کاروائیوں کو منظم کرنے کے لیے باضابطہ کمانڈ اسٹرکچر کا اعلان کر دیا ہے، جسے ماہرین پاکستان کے استحکام کے خلاف ایک منظم جنگی مشینری کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی جی نے ‘تلواڑ’ نامی دہشت گرد کو جنرل رسپانسبل کمانڈر مقرر کیا ہے، جبکہ خیبر، بنوں اور وانا کے علاقوں کے لیے مخصوص نائب کمانڈروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ نیا ڈھانچہ کالعدم ٹی ٹی پی کے “زونل کمانڈ” ماڈل کی ہو بہو نقل ہے، جس کا مقصد خودکش حملوں، آئی ای ڈی دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو زیادہ مہلک اور منظم بنانا ہے۔

خفیہ انتظامی ڈھانچے کا خطرہ

رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ بنوں اور خیبر جیسے اضلاع میں انتظامی کرداروں کی تقسیم دراصل ایک ‘متوازی حکومت’ (شیڈو گورننس) قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے مقامی شہریوں کی آزادی اور تحفظ کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے ڈھانچوں کے قیام کے بعد بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور انتہا پسندانہ بیانیے کی مخالفت کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آ جاتی ہے۔

مجلسِ عسکری اور ٹی ٹی پی

تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ٹی ٹی جی نے ‘مجلسِ عسکری’ اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ وسائل اور انٹیلیجنس کا یہ اشتراک شمال مغربی سرحدی پٹی میں دہشت گردی کی ہلاکت خیزی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینا اور ریاست و شہریوں پر مسلسل حملوں کے ذریعے خیبر پختونخوا کو مستقل طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔

سکیورٹی حکام اس نئی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ان مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *