کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ اس وقت افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی میں کابل کے انتہائی محفوظ ترین علاقے ‘گرین زون’ یا سفارتی انکلیو میں مقیم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محسود کابل کے اس حساس علاقے کی ایک کثیر المنزلہ عمارت میں روپوش ہیں، جہاں اہم حکومتی دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے بھی واقع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جس عمارت میں نور ولی محسود مقیم ہیں، وہاں دیگر عام افراد اور عملے کی موجودگی کو مبینہ طور پر ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد محسود کی حفاظت کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ ٹارگٹڈ فضائی یا زمینی کارروائی کو روکنا ہے، کیونکہ سفارتی انکلیو جیسے حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت عالمی سطح پر پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
افغان طالبان کے کردار پر سوالات
سکیورٹی حکام نے اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے سب سے زیادہ محفوظ مقام پر ٹی ٹی پی قیادت کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان حکومت عسکری عناصر کو نہ صرف سہولت کاری فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں بھی میسر ہیں۔ یہ صورتحال اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ پاکستان مسلسل افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
ماہرین کا ماننا ہے کہ کابل کے مرکز میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ اگر ان اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے مزید تصدیق ہوتی ہے، تو یہ بین الاقوامی سطح پر کابل حکومت کے ان وعدوں کی نفی ہوگی جن میں انہوں نے افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا یقین دلایا تھا۔