تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو طویل عرصے تک ایک مقامی نوعیت کی شورش پسند تنظیم سمجھا جاتا رہا، جس کی سرگرمیاں زیادہ تر پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی معلومات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ تنظیم بتدریج ایک سرحد پار نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رہی ہے، اور بنگلہ دیش ایک ممکنہ بھرتی راہداری کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا کی مجموعی سلامتی کے لیے تشویش ناک ہے۔
ٹی ٹی پی 2007 میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں مختلف عسکریت پسند دھڑوں کو یکجا کرنے کے لیے قائم ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر اس کا ہدف پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں تھا۔ مگر 2021 کے بعد افغانستان کی صورتحال میں تبدیلی نے تنظیم کو تنظیمی استحکام اور بیرونی روابط بڑھانے کا موقع فراہم کیا، جس کے نتیجے میں اس کے ڈھانچے اور رسائی میں وسعت آئی۔
2024 میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران، جیلوں سے قیدیوں کے فرار اور اسلحے کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود شدت پسند تنظیمیں، جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (ہوجی-بی) اور انصار الاسلام، ایک نظریاتی ماحول فراہم کرتی رہی ہیں جس میں بیرونی گروہوں کے لیے جڑیں مضبوط کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جماعت الانصار فل ہند الشرقیہ (جے اے ایف ایچ ایس) جیسے مقامی گروہ مبینہ طور پر لاجسٹک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے بنگلہ دیشی نوجوانوں کو سرحد پار نیٹ ورکس سے جوڑنے میں سہولت کار بنے۔ بھرتی کا ڈھانچہ زیادہ تر تین ستونوں پر قائم بتایا جاتا ہے: ڈیجیٹل ذرائع سے انتہا پسندانہ مواد کی ترسیل، مذہبی یا نظریاتی سرپرستی، اور بیرونِ ملک ملازمت یا عمرہ جیسے بہانوں کے ذریعے نقل و حرکت کو چھپانا۔
ٹیلیگرام اور واٹس ایپ جیسے خفیہ پیغام رسانی پلیٹ فارمز پر بنگالی زبان میں مواد کے ذریعے ٹی ٹی پی کی شورش کو ایک وسیع تر علاقائی جہاد کے بیانیے میں پیش کیا گیا۔ بعض افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے آن لائن رابطوں، سفری انتظامات اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی، جس سے بھرتی کا عمل منظم شکل اختیار کر گیا۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان اور کرک جیسے علاقوں میں بنگلہ دیشی شہری فعال جنگجو یونٹس کا حصہ بنے۔
یہ رجحان صرف پاکستان اور بنگلہ دیش تک محدود نہیں۔ ملائیشیا میں بنگلہ دیشی کارکنوں کی گرفتاریوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ڈیجیٹل انتہا پسندی، تارکینِ وطن نیٹ ورکس اور مالی معاونت کے غیر رسمی ذرائع ایک وسیع تر سرحد پار شدت پسند ماحول کو تقویت دے رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے لیے یہ صورتحال اس خطرے کو بڑھاتی ہے کہ وہ علاقائی شورشوں کے لیے ایک “فیڈر ماحول” میں تبدیل ہو جائے، جہاں ڈیجیٹل نگرانی، سرحدی کنٹرول اور انسدادِ انتہا پسندی کے نظام میں کمزوریاں نمایاں ہوں۔ پاکستان کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں کی شمولیت شورش کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، جس سے انٹیلی جنس نگرانی اور نیٹ ورک توڑنے کی کوششیں دشوار ہو جاتی ہیں۔
جنوبی ایشیا کو اس ابھرتے ہوئے خطرے کا مقابلہ محض انفرادی سطح پر نہیں بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی سے کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانا، سرحدی تعاون بڑھانا، اور نوجوانوں کے لیے معاشی و تعلیمی مواقع پیدا کرنا اس مسئلے کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، خطے میں ایک نئی بھرتی راہداری کا قیام نہ صرف موجودہ شورشوں کو طول دے گا بلکہ آئندہ برسوں میں سلامتی کے مزید پیچیدہ چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔