"> ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر ٹی ٹی پی کا بیان، گٹھ جوڑ بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ریاست مخالف گٹھ جوڑ بے نقاب: ماہ رنگ بلوچ کی حمایت میں ٹی ٹی پی کا ویڈیو بیان جاری

ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر کالعدم ٹی ٹی پی کے ویڈیو بیان نے قوم پرست عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان ریاستی اداروں کے خلاف قائم خطرناک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر ٹی ٹی پی کا بیان، گٹھ جوڑ بے نقاب

ماہ رنگ بلوچ کی حمایت میں ٹی ٹی پی کے طارق محسود کے ویڈیو بیان سے پاکستان کے خلاف دونوں گروہوں کا مشترکہ ایجنڈا سامنے آ گیا ہے۔

July 2, 2026

ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حالیہ بیان نے ملک دشمن عناصر کے مابین قائم گہرے روابط اور نظریاتی گٹھ جوڑ کو پوری طرح طشت از بام کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ٹی پی کے مفتی طارق محسود نے ماہ رنگ بلوچ کی کھل کر حمایت کی ہے، جس سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ یہ تمام قوتیں ملک و ملت کے خلاف ایک ہی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔

اداروں کے خلاف اشتراکیت

سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس ویڈیو میں ماہ رنگ بلوچ کو مظلوم بنا کر پیش کرنا اور عوام سے ان کی تائید کی اپیل کرنا دراصل عام شہریوں کو ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف اکسانے کی ایک گہری سازش ہے۔

ٹی ٹی پی اور بلوچ انتہا پسند بظاہر مختلف نظریات کا پرچار کرتے ہیں، لیکن ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، اداروں کو نشانہ بنانے اور عوام میں مایوسی پھیلانے کے معاملے پر دونوں کا ہدف اور بیانیہ ایک ہی ہے۔ یہ گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے کہ دونوں گروہ ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے لیے ممد و معاون بنے ہوئے ہیں۔

اداروں کے دعوؤں پر تصدیق مہر

سکیورٹی حلقوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مؤقف برقرار رکھا گیا ہے کہ حقوق کی آڑ میں کام کرنے والی بعض قوم پرست تنظیمیں دراصل دہشت گردوں کے سیاسی ونگ کے طور پر سہولت کاری کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔

ٹی ٹی پی کی جانب سے ماہ رنگ بلوچ کے حق میں یہ اعلانیہ ویڈیو جاری ہونا اس سکیورٹی بیانیے کی حتمی تائید ہے، جس نے پسِ پردہ متحرک نیٹ ورک کے تمام مہرے واضح کر دیے ہیں۔

ملک کے خلاف گہری سازش

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک مسلح کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم کا ایک قوم پرست رہنما کی حمایت میں اس طرح تڑپ اٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کے تانے بانے ایک ہی جگہ ملتے ہیں۔

عوام اور اداروں کو آمنے سامنے لانے کی یہ منظم کوشش اس خطرناک گٹھ جوڑ کا حصہ ہے، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل کو روکنا اور ملک کو داخلی عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور عوام اس ملک دشمن گٹھ جوڑ کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

دیکھیے: پاکستان میں ملوث افغان دہشت گردوں کے افغانستان میں جنازے، شواہد سامنے آ گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *