وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اس لیے افغان مہاجرین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں، بصورت دیگر ریاستی پالیسی کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات اور دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک دشمن عناصر مختلف سازشوں میں مصروف ہیں تاہم ریاستی ادارے ان کوششوں کو ہر صورت ناکام بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے، لیکن خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو بدامنی کا شکار بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے ایسے عناصر کے لیے سہولت کاری کا ذریعہ بن رہا ہے جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں اور ایک پرامن و مستحکم افغانستان پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
افغان دہشتگرد گرفتار
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلوچستان داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے سرگرم تھا۔ ان کے مطابق گرفتار شخص کا بھائی افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر ہے، جو دونوں تنظیموں کے باہمی روابط کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں اور متعدد افغان شہری دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی اے اور کالعدم ٹی ٹی پی مل کر صوبے میں حملے کرتے ہیں جبکہ بعض افراد نادرا کے جعلی شناختی کارڈز بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جو بھی ملک یا عنصر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔