حالیہ دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے گردش کرنے والی خبریں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان ریاستی اور اعلی سطح پر کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ قابل اعتماد حکومتی ذرائع اور مذاکراتی اہلکاروں نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اس طرح کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کُن ہیں۔
پاکستان دشمن قوتوں نے پاک ترک سے متعلق دعوی کیا ہے کہ ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہیں کیونکہ فیلڈ مارشل کے منتخب کردہ مذاکراتی وفد نے پاک افغان مذاکرات کے دوران ترکی اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کا احترام نہیں کیا۔
⚡ Tensions emerged between Pakistani military establishment and Turkish intelligence:
— OSINT Updates (@OsintUpdates) November 24, 2025
According to sources, the head of Turkey’s intelligence service is unhappy with Pakistan Army Chief Asim Munir after the delegation he selected for the Pakistan-Afghanistan talks in Ankara… pic.twitter.com/nOiPh277G1
TENSIONS BETWEEN PAKISTAN & TURKEY
— Frontalforce 🇮🇳 (@FrontalForce) November 24, 2025
According to sources, the head of Turkey’s intelligence service is unhappy with Pakistan Army Chief Asim Munir after the delegation he selected for the Pakistan-Afghanistan talks in Ankara showed disrespect toward Turkey and Qatar’s mediation… pic.twitter.com/wGYE1yKlxN
اسی طرح افغان ٹائمز پر شائع ہونے والی خبر جو ذیل میں ہے۔
🚨#BREAKING
— Afghanistan Times (@TimesAFg1) November 24, 2025
Tensions Have Emerged Between the Pakistani Military and Turkish Intelligence
According to credible sources, the head of Turkey’s intelligence agency has become upset with Pakistan’s Army Chief, Asim Munir, after the Pakistani delegation personally selected by Munir… pic.twitter.com/gSEpVL9oe1
BREAKING NEWS 🚨 🇵🇰🇹🇷
— Khurasan English (@KhurasanEng0) November 24, 2025
Reliable sources report that tensions have emerged between the Pakistani military establishment and Turkish intelligence.
According to these sources, the chief of Turkey’s intelligence service is displeased with Pakistan’s Army Chief, Asim Munir, because… pic.twitter.com/SfGaIId3Y1
خراسان انگلش، افغان ٹائمز اور انڈین اکاؤنٹ سے چلنے والی نیوز سے اندازہ لگایا جاسکتان ہے کہ انکو اکاؤنٹس کو کیسے چلایا جارہا ہے
پاکستان نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ تو ترکی کی کسی اعلیٰ و مقتدر شخصیت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی مذاکراتی عمل پاکستان کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ ترکی اور قطر دونوں نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے رویے کو ہمیشہ مثبت اور خیر خواہانہ قرار دیا ہے۔ پاک افغان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی شراکت اور ثالثی کی کوششوں کو مکمل احترام حاصل رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ گردش افواہیں اکثر انڈین و افغان اکاؤںٹ سے پھیلائی جارہی ہیں جسکا واضح مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرتے ہوئے پاکستان کی بین الاقوامی شراکت داریوں کو متاثر اور عوام میں غلط فہمی پیدا کرنا ہے۔ دیکھا جائے تو افغان شہریوں کے اکاؤنٹس بے بنیاد خبریں شائع کررہے ہیں نیز پاک افغان مذاکرات کے بارے میں بھی گمراہ کن تاثر دے رہے ہیں۔
مزید یہ کہ پاکستانی حکام نے اس موقع پر کہا ہے کہ کہ ترک وفد کا آنے والا دورہ پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے عمل کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہے اور اس میں کسی قسم کی کشیدگی یا اختلاف کا کوئی حقیقت پر مبنی جواز موجود نہیں ہے۔
دیکھیں: سعودی عرب نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کیلئے ثالثی کی پیشکش کر دی