"> ایران جنگ خطے کو دہائیوں کی تباہی میں دھکیل سکتی ہے، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کا انتباہ - HTN Urdu ایران جنگ خطے کو دہائیوں کی تباہی میں دھکیل سکتی ہے، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کا انتباہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران جنگ خطے کو دہائیوں کی تباہی میں دھکیل سکتی ہے، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کا انتباہ

ابراہیم قالن نے کہا کہ یہ جنگ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے زیادہ خطرناک مقاصد کارفرما ہیں، جن میں ترک، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تنازع کی بنیاد ڈالنا شامل ہے۔
ترکیہ خفیہ انٹیلیجنس کے سربراہ کا بیان

اس جنگ سے خطے میں تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے

March 29, 2026

انقرہ: ترکیہ کی خفیہ ایجنسی (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم قالن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ایک ایسی خطرناک علاقائی کشمکش کی بنیاد رکھ رہی ہے جو عشروں تک جاری رہ سکتی ہے اور پورے خطے کو عدم استحکام میں دھکیل دے گی۔

اپنے خطاب میں ابراہیم قالن نے کہا کہ یہ جنگ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے زیادہ خطرناک مقاصد کارفرما ہیں، جن میں ترک، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تنازع کی بنیاد ڈالنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے خطے میں تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

ترک انٹیلی جنس چیف نے واضح کیا کہ ترکیہ کسی بھی صورت خطے میں انتشار کی آگ کو بھڑکانے کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ اس آگ کو بجھانے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس جنگ کا آغاز کس نے کیا اور کون اس کو وسعت دے رہا ہے۔

ابراہیم قالن نے قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی تمہید ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں لبنان، شام، فلسطین اور دیگر علاقوں میں نئے اور خطرناک حقائق جنم لے سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترک قیادت کی یہ وارننگ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ طویل جنگ کے خطرات کی سنجیدہ عکاسی کرتی ہے۔

دیکھئیے:ایران جنگ کے اثرات، بھارتی معیشت دباؤ کا شکار؛سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر نکال لئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *