متحدہ عرب امارات کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے منفی تبصروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم سعودی عرب کے صارفین کی جانب سے اس بیانیے کا بھرپور جواب بھی سامنے آ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بحث خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔
سوشل میڈیا تجزیوں کے مطابق عربی زبان میں ہونے والی گفتگو میں پاکستان پر تنقید کا رجحان اُس وقت بڑھا جب اسلام آباد میں ہونے والے ایران-امریکہ مذاکرات میں متحدہ عرب امارات کی عدم شمولیت کی خبریں سامنے آئیں، جبکہ سعودی عرب اور مصر کے مبینہ طور پر مبصرین کی حیثیت سے شرکت کا ذکر کیا گیا۔ تاہم ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔
مزید برآں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، خصوصاً پاکستانی فوجی دستوں اور فضائی تعاون سے متعلق رپورٹس بھی اس بحث کا حصہ بنیں، جسے بعض حلقوں نے سیاسی تناظر میں پیش کیا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پاک-سعودی تعاون ایک طویل المدتی اور باہمی مفادات پر مبنی معاہدوں کا حصہ ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تنقید کا بڑا حصہ ایسے اکاؤنٹس سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو حکومتی بیانیے کے قریب سمجھے جاتے ہیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ دوسری جانب سعودی سوشل میڈیا صارفین پاکستان کے حق میں مؤقف پیش کرتے ہوئے اس تنقید کا جواب دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عربی زبان میں ہونے والی اس بحث میں پاکستانی مؤقف نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ لسانی رکاوٹ ہے، تاہم سعودی صارفین اس خلا کو پُر کرتے ہوئے پاکستان کے سفارتی کردار اور خطے میں امن کی کوششوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا بھی سفارتی بیانیے کا اہم میدان بن چکا ہے، جہاں اتحادی ممالک کے درمیان بھی رائے عامہ کی سطح پر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں، تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات اس تناظر میں بدستور مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔
دیکھئیے:بنوں کے بکاخیل ایئرپورٹ کے قریب آپریشن: ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا؛ ٹی ٹی پی سے تعلق کی تصدیق