وفاقی دارالحکومت میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد ملک بھر کے علما نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ اسلام میں بے گناہ انسانوں کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام، انسانیت اور مذہبی اقدار کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔
جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے مہتمم اور ممتاز دینی رہنما مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا بدترین دہشت گردی ہے اور ایسے جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن، برداشت اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے، جبکہ خودکش حملے فتنہ، فساد اور انتشار پھیلانے کی سازش ہیں۔

مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک مسلک یا فرقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علما اور عوام کو یک زبان ہو کر اس فتنۂ خوارج اور انتہاپسندی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا، تاکہ معاشرے کو مزید خونریزی اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کرے، جبکہ علما، مدارس اور مساجد کو امن و ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ مفتی نعمان نعیم نے شہدا کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
علما نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی ہی پاکستان کے امن اور استحکام کی ضمانت ہے، اور یہ اتحاد اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اور دینی قیادت ہر قسم کی دہشت گردی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔