افغانستان کے صوبے بامیان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سکیورٹی افسر ڈاکٹر کریم کریمی پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے وہ اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، تاہم اس واقعے نے طالبان حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں سکیورٹی کی ناقص صورتحال کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
یہ حملہ طالبان کی براہِ راست نگرانی اور زیرِ اثر علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد آزادانہ طور پر تحرک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے والا طالبان گروہ ایک ذمہ دار حکومت کا طرزِ عمل اختیار کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
#عکسها
— Aamaj News (@aamajnews_24) October 21, 2026
حمله مسلحانه به مسئول امنیتی دفتر یوناما؛ کریم کریمی از سوءقصدِ جان سالم بهدر برد
منابع در بامیان به آماجنیوز میگویند که دکتر کریم کریمی، مسئول امنیتی دفتر نمایندگی سازمان ملل متحد در افغانستان (یوناما)، امروز در مرکز ولایت بامیان هدف حمله افراد مسلح ناشناس قرار… pic.twitter.com/BepIednKJv
حقائق کے مطابق طالبان حکومت اقوام متحدہ کے امدادی مشن کو دباؤ میں لانے اور خاموش کرانے کی پالیسی پر گامزن ہے، کیونکہ یو این اے ایم اے افغانستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کو عالمی سطح پر دستاویزی شکل دیتا ہے۔ طالبان حقائق سامنے لانے والے اداروں کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔
اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا اور ان کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنا حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے منافی اور شورش پسندی کا تسلسل ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر عالمی برادری سے طالبان حکومت پر سخت پابندیاں عائد کرنے اور انہیں عالمی سطح پر تنہا کرنے کا تقاضا زور پکڑ رہا ہے۔





