پاکستان نے جمعرات کو واضح کیا ہے کہ افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی وہاں موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کے دیرینہ مؤقف کی بھرپور توثیق کرتی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ رپورٹ عالمی سطح پر ان خدشات کو تقویت دیتی ہے جو پاکستان مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں نہ صرف ٹی ٹی پی بلکہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جو علاقائی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس حساس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اٹھائے گا تاکہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس عالمی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کے تحت کام کرنے والے دیگر گروہوں کے مقابلے میں ‘خصوصی رعایت’ حاصل ہے۔ رپورٹ میں رکن ممالک کی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تنظیم اپنی موجودہ سہولت کاری کے باعث مستقبل میں خطے کی حدود سے باہر بھی ایک سنگین عسکری خطرہ بن کر ابھر سکتی ہے۔
پاکستان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں اضافے کے باعث کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سلامتی کونسل کی یہ دستاویز پاکستان کے اس مطالبے کو مزید وزن دیتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر عمل کرے۔
دیکھیے: نور ولی محسود: فتنہ الخوارج کا سرغنہ اور اس کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف