اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کو منظور کر لیا ہے۔ پیش کی گئی قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیے جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہے۔ قرارداد کے مطابق امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں مرکزی کردارادا کرے گا تاکہ قیامِ امن ممکن ہوسکے اور فریقین خوشحالی کے ساتھ رہ سکیں۔
غزہ میں پیس کونسل قائم
قرارداد کے مطابق غزہ میں کام کرنے والے ادارے اس کمیٹی کے تحت کام کریں گے۔ اور ایک پیس کونسل قائم کی جائے گی اور اس کمیٹی کے لیے باقاعدہ فینڈز کیے جائیں گے جو فنڈز پیس کونسل کو فعال رکھنے اور حکومتی معاونت کے لیے ہونگے۔
اسرائیلی فوج کا انخلا
اسی طرح قرارداد میں اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گی جب تک کہ بین الاقوامی استحکام فورس اپنا کنٹرول قائم نہیں کر لیتی اور قیامِ امن کی راہ ہموار نہیں ہوجاتی۔ قراردار کے متن کے مطابق اسرائیلی فوج کے انخلا کے مراحل اور اوقات کو حماس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔
اسرائیلی ردعمل
قرارداد کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی ذرائع نے فلسطینی ریاست کے قیام سمیت دیگر دفعات کو مسترد کیاہے۔ مزید یہ کہ غزہ سے انخلا صرف اسی صورت میں ہوگا جب اسرائیل کو مکمل یقین ہو جائے کہ ہمارے خلاف کوئی میدان میں نہیں آئے گا۔
حماس کا رد عمل
عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو مجروح کرتی ہے اور غزہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔ نیز اس قسم کے منصوبوں سے اہل غزہ کے حقوق بھی متاثر ہوں گے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اس قراردار کے حق ووٹ دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حمایت کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کا تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کی بحالی ہے۔ عاصم افتخار نے مزید کہا کہ ہم نے یہ ووٹ فلسطینی بھائیوں کے قتل عام کو روکنے اور اسرائیلی فوجوں کے مکمل انخلا کو یقینی بنانے کے لیے دیا ہے۔
انہوں نے مزید تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا روزِ اول سے مؤقف واضح رہا ہے کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور فلسطین کو مکمل ریاستی حیثیت کو تسلیم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی قسم کے علاقائی الحاق یا جبری نقل مکانی قبول نہیں کی جائے گی۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے مزید کہا کہ ان کی حمایت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کے درمیان جغرافیائی رابطہ یقینی بنایا جائے گا اور فلسطینی عوام کو مکمل حقوق اور آزدی دی جائے گی۔
قرارداد کے تحت غزہ میں ایک بورڈ آف پیس قائم کرتے ہوئے بین الاقوامی استحکام فوج بھی تشکیل دی جائے گی جو خطے میں امن وامان کی ذمہ دار ہوگی۔ تاہم پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مذکورہ اقدامات سے فلسطینی عوام کے حقوق متاثر نہیں ہونگے۔ پاکستان کی اس قرارداد کی حمایت درحقیقت خطے کے قیام امن کا واضح ثبوت ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کا ردعمل
اسی طرح سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے مذکورہ قرارداد کو امن کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔ تاہم فلسطینی تنظیم حماس نے قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق کے مطابق نہیں۔
دیکھیں: امریکی ثالث جیرڈ کُشنر کی نیتن یاہو سے ملاقات۔ غزہ جنگ بندی معاہدے پر گفتگو