اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس ماہ کے اختتام پر افغانستان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کے مینڈیٹ میں توسیع کے لیے اہم ووٹنگ کرنے جا رہی ہے۔ کونسل کی جانب سے “اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم” کے کردار کو جاری رکھنے کی قرارداد پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا موجودہ مینڈیٹ اٹھارہ فروری کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس ووٹنگ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ نگرانی کے عمل میں کوئی تعطل نہ آئے اور پابندیوں کا نفاذ بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
دوسری جانب طالبان حکومت ان پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔ ان پابندیوں کے اثرات انسانی امداد کے کاموں، بین الاقوامی مالیاتی لین دین اور عام افغان شہریوں کی معاشی حالت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کا یہ ووٹ اسی لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر مینڈیٹ کی توسیع نہ کی گئی تو پابندیوں کے نفاذ اور نگرانی کے عمل میں ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی ردعمل میں امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پابندیوں کی نگرانی کے تسلسل کی حمایت کی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مینڈیٹ میں توسیع کی منظوری مل جاتی ہے تو افغانستان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کا عمل بلا رکاوٹ جاری رہے گا، بین الاقوامی مالیاتی ادارے ملک کے ساتھ معاملات میں احتیاطی رویہ برقرار رکھیں گے اور طالبان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ قائم رہے گا۔ اگر توسیع منظور نہ ہوئی تو پابندیوں کے نفاذ میں تعطل پیدا ہو گا، جس سے دہشت گرد گروہوں کے لیے مالی وسائل تک رسائی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں اور عالمی بینکاری نظام کے افغانستان کے ساتھ روابط مزید کشیدہ یا منقطع ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود انسانی بنیادوں پر دی جانے والی چھوٹ کی سہولت برقرار رہے گی تاکہ پابندیاں افغان عوام کی روزمرہ زندگی اور انسانی امداد کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ یہ ووٹ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے مستقبل کے تعلقات اور پورے خطے کی سلامتی کے امکانات کا ایک اہم اشارہ ہے۔
واضح رہے کہ یہ نگرانی ٹیم 1988 کی افغانستان پابندیوں کی کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، جو امارتِ اسلامیہ افغانستان سے وابستہ افراد اور اداروں پر مالی پابندیاں، سفری پابندیاں اور اسلحے کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ کمیٹی پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے، رعایت کی درخواستوں پر غور کرنے اور رکن ممالک کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کی ذمہ دار بھی ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم پابندیوں کے عملی نفاذ کا جائزہ لیتی ہے، تفصیلی تجزیاتی رپورٹس تیار کرتی ہے اور سفارشات پیش کرتی ہے، اور اس کا دائرہ کار ان تمام فریقین پر محیط ہے جو افغانستان میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ مینڈیٹ میں توسیع کے بعد ٹیم انسانی، سیاسی اور سلامتی کے خطرات پر مسلسل نظر رکھ سکے گی۔