"> یکطرفہ رپورٹ، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں دہشت گرد پناہ گاہوں اور انسانی ڈھال کے استعمال کو نظر انداز کرنے کا انکشاف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

یکطرفہ رپورٹ، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں دہشت گرد پناہ گاہوں اور انسانی ڈھال کے استعمال کو نظر انداز کرنے کا انکشاف

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ کو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ طالبان نے عسکری تنصیبات شہری علاقوں میں چھپا رکھی ہیں جبکہ یو این اے ایم اے کی رپورٹنگ یکطرفہ ہے۔
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ کو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ طالبان نے عسکری تنصیبات شہری علاقوں میں چھپا رکھی ہیں جبکہ یو این اے ایم اے کی رپورٹنگ یکطرفہ ہے۔

یو این اے ایم اے کی کابل حملے سے متعلق رپورٹ پر پاکستان کا جوابی مؤقف سامنے آگیا ہے، جس میں طالبان کی عسکریت، انسانی ڈھال کے استعمال اور سرحد پار دہشت گردی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

May 13, 2026

اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن یوناما کی جانب سے کابل میں مبینہ شہری ہلاکتوں سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کو ماہرین اور متعلقہ حلقوں نے حقائق کی مسخ شدہ تصویر اور طالبان کے زیرِ اثر تیار کردہ بیانیہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق یو این اے ایم اے کی رپورٹ میں پاکستان کو درپیش سرحد پار دہشت گردی کے سنگین خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

صرف سال 2025 میں پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 1,957 جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 3,079 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یو این اے ایم اے نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والے واقعات کی نگرانی نہیں کرتا، جو اس کی رپورٹنگ کے غیر متوازن اور جانبدار ہونے کا بین ثبوت ہے۔

طالبان کا دباؤ اور غیر معتبر تصدیق

ماہرین کا کہنا ہے کہ یو این اے ایم اے کی نام نہاد تصدیق شدہ رپورٹنگ ایک ایسے ماحول میں تیار ہوتی ہے جو مکمل طور پر طالبان کے مسلح گروہ کے کنٹرول میں ہے۔ جہاں معلومات، گواہوں تک رسائی اور مقامی ڈھانچے سب ان کے زیرِ اثر ہیں، وہاں آزاد تصدیق کے دعوے محض ایک ڈھونگ ہیں۔ مزید برآں، یو این اے ایم اے کے اہلکار طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات اور سیکیورٹی خطرات کے باعث شدید دباؤ میں کام کرتے ہیں اور حقائق کے بجائے طالبان کے ‘پروپیگنڈا سیل’ کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔

عسشہری علاقوں میں منتقلی

رپورٹ میں جس “امید ڈرگ ریہیبلیٹیشن فیسلٹی” کا ذکر کیا گیا ہے، وہ دراصل سابقہ فوجی کیمپ “فینکس” کے اندر واقع تھی اور اسلحہ کے بڑے ذخیرے سے محض 200 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ “افغانستان گرین ٹرینڈ” کی جانب سے جاری کردہ نقشوں سے ثابت ہوا ہے کہ طالبان نے کابل کے گنجان آباد بازاروں اور شہری علاقوں میں اسلحہ سے بھرے 23 کنٹینرز منتقل کیے ہیں تاکہ انہیں “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

ثانوی دھماکوں کے شواہد

جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 اور 19 کے تحت طبی یا فلاحی مراکز کو حاصل تحفظ اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب انہیں عسکری مقاصد یا اسلحہ چھپانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ پاکستانی کارروائیوں کا ہدف مخصوص ڈرون اسٹوریج، تکنیکی سہولیات اور اسلحہ ڈپو تھے جو پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ حملے کے بعد جاری ہونے والی تصاویر میں گہرے گڑھوں کی عدم موجودگی اور تباہی کا انداز واضح طور پر “ثانوی دھماکوں” کی نشاندہی کرتا ہے، جو وہاں موجود بارود کے ذخیرے کی موجودگی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔

پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار

پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ حالیہ آپریشنز خالصتاً ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے عسکری ڈھانچے کے خلاف تھے جنہیں طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ رپورٹ میں جن افراد کو “شہری” کہا گیا ہے، وہ دراصل افغانستان میں موجود 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے کارندے یا ان کے اہلِ خانہ تھے جو انہی عسکری کمپاؤنڈز میں مقیم تھے۔ پاکستان نے ہمیشہ قبائلی جرگوں اور مقامی عمائدین کے ذریعے سرحد پار دراندازی روکنے کی کوششوں کو خوش آمدید کہا ہے۔

حاصلِ کلام

بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طالبان حکومت سویلین علاقوں میں عسکری ڈھانچہ چھپا کر انسانی ہلاکتوں کو پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یو این اے ایم اے اپنی سفارشات میں طالبان سے شہری علاقوں کی عسکریت ختم کرنے کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے حقائق کا درست ادراک کریں اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کی جانے والی جائز کارروائیوں کو متنازع بنانے کے بجائے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا نوٹس لیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *