اقوامِ متحدہ کے مشن برائے امداد افغانستان (یوناما) کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک پرانی بحث کو پھر سے ہوا دے دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے سرحد پار کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں افغان شہری ہلاکتوں کا ذکر تو ہے، مگر یہ تصویر کا محض ایک رُخ ہے پوری کہانی نہیں۔ یہ کہانی کا صرف ایک باب بیان کرتی ہے، جبکہ اس المیے کی اصل کتاب کا پہلا صفحہ اُس دن لکھا گیا تھا جب افغانستان میں پلنے والے دہشت گرد گروہوں نے پاکستانی سرزمین کو اپنے خونخوار عزائم کا نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
یوناما کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران 70 ہلاکتیں، 478 زخمی۔ ہر ایک جان قیمتی ہے۔ مگر کیا رپورٹ مرتب کرنے والوں نے کبھی پاکستان کے اعداد دیکھے؟ صرف 2025 میں ہی دہشت گردی کے 1,957 پاکستانی شہداء، 3,603 زخمی۔ کیا ان پاکستانی ماؤں، بہنوں اور بچوں کے آنسوؤں کی قیمت نہیں کوئی پرسانِ حال نہیں؟ کیا سرحد کے اس پار کے غم کا درجہ اس پار کے غم سے بلند و بالا ہے؟
یہ رپورٹ ایک خطرناک یک طرفگی کا شکار ہے۔ اس نے اثر و مسئلے کو تو بیان کیا ہے، لیکن سبب کی پردہ پوشی کی ہے۔ سبب وہ ہے جب طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں کو اپنے ہاں پناہ دی، ان کے تربیتی کیمپ کھلے چھوڑ دی اور پاکستان کے خلاف ان کی کاروائیوں پر سُکوت اختیار کی۔ پاکستان نے صبر کا ہر پہاڑ توڑا۔ چار مرتبہ وزیر خارجہ کے دورے، سیکڑوں فلیگ میٹنگیں، لاتعداد سفارتی وارننگ۔ ہر کوشش کا جواب دہشت گردی کے ایک نئے واقعے سے ملا۔
پاکستان کی کاروائیاں جارحیت یا ظالمانہ نہیں تھیں۔ یہ انتہائی احتیاط سے منتخب کردہ، انٹیلی جنس پر مبنی، اور صرف تصدیق شدہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہدف بندی تھی۔ جب سرحد کے اس پار سے بارود کی بو آتی ہو، تو سرحد کے اس پار بیٹھنا خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان نے اپنے وجود کے تحفظ کے حق میں، جو بین الاقوامی قانون سے اسے حاصل ہے، وہ اقدام اٹھایا۔
رپورٹ کا اصل کمزور پہلو اس کا ماخذ ہے۔ یہ بنیادی طور پر طالبان حکومت کے دعوؤں پر مبنی ہے، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دہشت گردی کی دنیا میں یہ ایک معلوم حربہ ہے: اپنے جنگجوؤں کو شہری بنا کر پیش کرنا۔ کیا یوناما کو ان افغان شہریوں کے جنازوں کی فہرست بھی دستیاب ہے جو پاکستان میں کیے گئے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہوئے؟
یوناما کا یہ رویہ بین الاقوامی اداروں کی اس عمومی روش کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان جیسے دہشت گردی سے براہ راست متاثرہ ممالک کے دفاعی اقدامات کو مشکوک نظر سے دیکھتی ہے۔ جب پاکستان دہشت گردوں کا پیچھا کرتا ہے تو “خود دفاع” کے حق پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، لیکن جب پاکستانی شہری مارے جاتے ہیں تو خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟
نتیجہ یہ ہے کہ یہ رپورٹ نہ صرف نامکمل ہے بلکہ خطرناک حد پر گمراہ کن بھی۔ یہ طالبان حکومت کو اس کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر یوناما واقعی انسانی ہمدردی کا ترجمان بننا چاہتا ہے، تو اسے دہشت گردی کے تمام شکاروں، چاہے وہ کسی بھی طرف ہوں، کے لیے یکساں آواز اٹھانی چاہیے۔ اسے طالبان حکومت کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنا، خطے کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنا ہے۔
پاکستان امن چاہ کا خواہاں ہے، لیکن امن ایک طرفہ نہیں ہو سکتا۔ یوناما کی رپورٹ کو پاکستان کے خلاف ایک سیاسی بیانے سے زیادہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حقیقی رپورٹ تو وہ ہے جو پاکستان کے شہری ہر روز اپنے خون سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی قربانیوں کو نظرانداز کر کے کبھی بھی حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔
دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت