ایران میں جاری ملک گیر احتجاج سترویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور حالات میں کسی فوری بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ مہنگائی، کرنسی کی تاریخی گراوٹ اور معاشی جمود کے خلاف شروع ہونے والا یہ عوامی غصہ اب واضح طور پر سیاسی نظام کے خلاف ایک وسیع تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس احتجاج میں اب تک 544 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکہ ایران تعلقات
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک جانب واشنگٹن نے سخت معاشی اقدامات کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب تہران نے مشروط سفارت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایران میں جاری ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ بندش اور عالمی دباؤ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروبار کریں گے، انہیں امریکہ کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک دن قبل دیے گئے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے “انتہائی سخت” آپشنز زیر غور ہیں۔ یہ اقدام ایران کے ساتھ ساتھ تیسرے ممالک پر بھی دباؤ ڈالنے کی واضح کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ عربی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ بات چیت دھمکیوں اور حکم ناموں کے بغیر ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔ عباس عراقچی نے جون 2025 میں امریکی بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس آپشن کو پہلے بھی آزما چکا ہے۔
امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت کا مبینہ استعمال
واشنگٹن میں ایران سے متعلق بیانیے میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ایران صدر ٹرمپ کو پسِ پردہ مختلف پیغامات دے رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
خامنہ ای اور پہلوی کا کردار
ایران کے اندر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے تہران میں ہونے والی حکومت نواز ریلیوں کے شرکا کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق ان ریلیوں میں دسیوں بلکہ لاکھوں افراد نے شرکت کی، جنہیں حکومت عوامی حمایت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
اسی دوران ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور جلاوطن رہنما رضا پہلوی احتجاجی تحریک کے حق میں کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ رضا پہلوی نے ملک گیر ہڑتالوں اور منظم سول مزاحمت کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے اتحاد اور پرامن دباؤ کی اپیل کی ہے۔ اگرچہ ایران کے اندر ان کے پاس کوئی باقاعدہ سیاسی تنظیم موجود نہیں، تاہم موجودہ حالات میں قیادت کے خلا کے باعث ان کی آواز کو خاصی توجہ مل رہی ہے، خصوصاً شہری متوسط طبقے اور بیرونِ ملک ایرانیوں میں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رضا پہلوی کی بڑھتی ہوئی موجودگی بادشاہت کی بحالی سے زیادہ نظامی تبدیلی کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ خود کو عبوری کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ایران کے مستقبل کے سیاسی نظام کے لیے ریفرنڈم کی بات کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف نظریات رکھنے والے گروہ جن میں سیکولر کارکن، طلبہ، مزدور تنظیمیں اور بعض نسلی تحریکیں شامل ہیں، ایک مشترکہ مقصد یعنی موجودہ نظام کے خاتمے پر متفق نظر آ رہے ہیں، اگرچہ آئندہ نظام پر اتفاق ابھی باقی ہے۔
علاقائی و عالمی ردعمل
علاقائی اور عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت کے ترجمان عمر چیلک نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے اور بحران کو گہرا کر دے گی۔ چین نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ چین ایران میں امن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
یورپ میں ایران کے لیے سفارتی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبیرٹا میٹسولا نے یورپی پارلیمنٹ کی عمارتوں میں تمام ایرانی سفارت کاروں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بلیک آؤٹ برقرار
ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اس وقت داخلی بحران، شدید معاشی دباؤ اور بیرونی محاذ پر بڑھتی کشیدگی کے سنگم پر کھڑا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ دھمکیوں اور مشروط مذاکرات کے یہ متوازی اشارے کسی سفارتی حل کی طرف لے جاتے ہیں یا خطہ ایک نئے تصادم کی جانب بڑھتا ہے۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش