حیرت انگیز طور پر امریکہ کی جانب سے طالبان حکومت کو مالی معاونت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، حالانکہ واشنگٹن عالمی سطح پر اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کی رکنیت ترک کر رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق امریکہ نے 13 جنوری 2026 کو طالبان کو 45 ملین ڈالر نقد ادا کیے، جبکہ اسی ماہ کے اختتام تک مزید 90 ملین ڈالر فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوری 2026 کے وسط میں امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے خصوصی انسپکٹر جنرل (سیگار) کو تصدیق کی کہ امریکہ طالبان کو ہر 10 سے 14 دن بعد تقریباً 80 ملین ڈالر نقد منتقل کر رہا ہے۔ اس مسلسل نقد ترسیل نے بین الاقوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے اداروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں براہِ راست نقد رقم کی منتقلی شفافیت اور احتساب کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جبکہ اس عمل سے طالبان حکومت کو عملی طور پر مالی استحکام فراہم ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ یہ رقوم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں، تاہم ان فنڈز کے استعمال سے متعلق واضح تفصیلات سامنے نہیں آ رہیں۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو مسلسل مالی امداد ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور اقلیتی تحفظات کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جس کے باعث امریکہ کی افغان پالیسی ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں برفانی تودہ گرنے سے ٹی ٹی پی کے 35 ارکان ہلاک، مزید ہلاکتوں کا خدشہ