خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور بحالیؑ امن کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے ایک بڑی سفارتی پیش رفت کا آغاز کیا ہے۔ معتبر عالمی ذرائع ابلاغ اور الجزیرہ انگلش کے مطابق ان تینوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کا محور آئندہ 48 گھنٹوں میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اور براہِ راست ملاقات کا انعقاد ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے سفارتی چینلز کے ذریعے تہران کو ایک جامع 15 نکاتی منصوبہ ارسال کیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کو ختم کرنا اور جمعرات تک بالمشافہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی یہ ممکنہ ملاقات خطے کی سیاست میں ایک نیا رخ متعین کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی اور مصر اس عمل میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں تاکہ فریقین کو ایک میز پر لایا جا سکے۔ اگرچہ اس 15 نکاتی منصوبے کی مکمل تفصیلات ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں، تاہم اس کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی اور فوری تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔
دیکھیے: ایران پر مسلط جنگ کے اثرات، عالمی ائیرلائنز کو 53 ارب ڈالر کا بڑا نقصان