پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی تاریخی جنگ بندی کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی اس حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جس نے دنیا کو ایک ہولناک عالمی جنگ اسے بچا لیا ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی کے پیچھے وزیراعظم شہباز شریف کا وہ وژن ہے جس کے تحت انہوں نے تنازع کے آغاز سے ہی “امن پہلے” کی پالیسی اپنائی۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ 72 گھنٹوں میں درجنوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بیک ڈور چینلز کو فعال رکھا۔ ان کی محنت کے نتیجے میں ہی ایران نے اپنا 10 نکاتی امن ایجنڈا پیش کیا جسے امریکہ نے مذاکرات کے لیے “قابلِ عمل بنیاد” تسلیم کیا۔
اسی طرح اس نازک مرحلے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی سینٹ کام کی قیادت اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ براہِ راست ٹیلی فونک رابطے کیے۔ ان رابطوں کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان پائے جانے والے عدم اعتماد کو ختم کرنا تھا۔ فیلڈ مارشل کے غیر جانبدارانہ مؤقف نے صدر ٹرمپ کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کی ضمانت پر حملے روکے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا اعتراف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر واضح طور پر تسلیم کیا کہ وہ ایران کی پوری تہذیب کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر یہ فیصلہ تبدیل کیا۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان کو “نہایت معزز شخص” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت سے بات چیت کے بعد انہوں نے ایران پر تباہ کن بمباری کا حکم معطل کر دیا ہے۔
ایرانی ویزر خارجہ کا بیان
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کو سراہتے ہوئے تہران کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایران نے جذبہ خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شریک ہوں گے تاکہ خطے سے غیر ملکی مداخلت اور جنگ کا مستقل خاتمہ ہو سکے۔
Statement on behalf of the Supreme National Security Council of the Islamic Republic of Iran: pic.twitter.com/cEtBNCLnWT
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 7, 2026
ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کا بیان
وزیراعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے مسلم امہ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے اپنے تفصیلی پیغام میں کہا کہ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی جرات مندانہ اور سفارتکاری ہی وہ بنیاد بنی جس کی بدولت امریکہ اور ایران کے درمیان دس نکاتی امن منصوبے پر اتفاق ممکن ہوا۔ انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کسی بھی خوف یا رعایت کے بغیر تمام فریقوں سے مکالمہ کر کے بین الاقوامی ذمہ داری کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے اور ملائیشیا اس امن عمل میں پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے۔
I wholeheartedly welcome the latest development in the current US-Iran war, in respect of the ten-point plan as proposed by Iran and positively received by the US.
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) April 8, 2026
This proposal augurs well for the restoration of peace and stability, not only to the region but also the rest of… pic.twitter.com/Gyy9vtjJPD
قازقستانی صدر کا بیان
قازقستان کے صدر نے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو اس صلح کی اصل طاقت قرار دیا۔ صدر توکایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی کا یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دانشمندانہ ثالثی کا ثمر ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی اس مخلصانہ کوشش سے نہ صرف خطے میں خونی تصادم رکے گا بلکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی تجارت اور اقوامِ عالم کی معاشی خوشحالی میں بھی غیر معمولی مدد ملے گی۔
🇰🇿 President Kassym-Jomart Tokayev welcomes the achievement of an agreement on a full ceasefire and truce in the #MiddleEast, reached with the mediation of Prime Minister of #Pakistan Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) and Chief of Army Staff of Pakistan, Field Marshal Asim Munir.
— Press Office of the President of Kazakhstan (@aqorda_press) April 8, 2026
This…
برطانوی ہائی کمشنر کا بیان
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے پاکستان کی سفارتکاری کو “خاموش اور مؤثر” قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ جب دنیا ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی تھی، تب پاکستان کی خاموش سفارتکاری نے پسِ پردہ رہ کر کشیدگی کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ پاکستان کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے ہموار راستہ فراہم کیا اور اب عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں ہونے والے اگلے مرحلے پر جمی ہوئی ہیں۔
آسٹریلوی وزیراعظم
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس پیش رفت کو عالمی امن کی سمت میں ایک “انتہائی اہم قدم” قرار دیا۔ انہوں نے اپنے آفیشل پیغام میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ایک ایسی مثبت پیش رفت ہے جس کا سہرا پاکستان جیسی ذمہ دار ریاستوں کی سفارتی کوششوں کے سر جاتا ہے۔ وزیراعظم البانیز کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ہمیشہ سے تنازعات کے سفارتی حل کا حامی رہا ہے اور آج پاکستان کی کوششوں سے دنیا کو جس امن کی امید ملی ہے، آسٹریلیا اس کی بھرپور تائید کرتا ہے۔
— Anthony Albanese (@AlboMP) April 8, 2026
سعودی تجزیہ نگار سلیمان العقیلی
معروف سعودی صحافی اور تجزیہ نگار سلیمان العقیلی نے اس سفارتی کامیابی کے ایک اور اہم پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کروائی گئی اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔ سلیمان العقیلی کے مطابق، وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ایران، امریکہ اور ان کے تمام اتحادی لبنان سمیت دیگر تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے وفود کو باضابطہ طور پر اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے تاکہ جمعہ سے مذاکرات کا وہ عمل شروع ہو سکے جس سے خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کیا جا سکے۔
باكستان تعلن ان وقف النار يشمل لبنان
— سليمان العقيلي (@aloqeliy) April 8, 2026
رئيس الوزراء الباكستاني: أعلن أن إيران وأميركا وحلفائهما قد اتفقتا على وقف فوري لإطلاق النار بما في ذلك لبنان وغيرها. أدعو وفود البلدين إلى العاصمة الباكستانية إسلام آباد يوم الجمعة المقبل لبدء المفاوضات. نأمل أن تكلل محادثات إسلام آباد…
مستقبل کا لائحہ عمل
10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے 10 نکاتی ایجنڈے پر بحث ہوگی، جس میں عراق، لبنان اور یمن میں جنگ بندی سمیت معاشی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب پاکستان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ اسلام آباد کی سرزمین وہ مقام بننے جا رہی ہے جہاں طویل امریکی۔ ایران کشیدگی کے خاتمے کا معاہدہ لکھا جائے گا۔