امریکی اور نیٹو فورسز کے 2021ء کے انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑا گیا اربوں ڈالر کا جدید اسلحہ اب پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ سگار کی جولائی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 167,550 رائفلیں، 41,500 مشین گنیں اور ہزاروں فوجی گاڑیاں پیچھے چھوڑ دی گئی تھیں، جن کی کل مالیت 7.1 ارب ڈالر تھی۔
سال 2025ء کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے 293 امریکی ساختہ ہتھیار اور نائٹ ویژن سائیٹس برآمد کیں۔ ان میں ایم 16 اور ایم 4 رائفلیں، مشین گنیں اور اسنائپر رائفلیں شامل تھیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی 2025ء کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں سے پکڑے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبر وہی تھے جو امریکہ نے افغان فورسز کو فراہم کیے تھے۔
امریکی ادارے سگار (SIGAR) کے مطابق 2021 کے انخلا کے وقت افغانستان میں لگ بھگ 7.1 ارب ڈالر کا جدید فوجی سازوسامان چھوڑا گیا، جس کا بڑا حصہ اب سرحد پار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
— The Radar Tribune (@TheRadarTribune) October 16, 2026
1 pic.twitter.com/2QxRCh8squ
دہشت گردوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں بھی ایم 4 رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، پی وی ایس 14 نائٹ ویژن گوگلز اور جدید اسنائپرز کی موجودگی عام دیکھی گئی ہے۔ یہ جدید سازوسامان اب دہشت گردوں کا معیاری ہتھیار بن چکا ہے۔
ان جدید آلات اور نائٹ ویژن ڈیوائسز کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے لیے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں سرپرائز کا عنصر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر حملے کرتے اور بچ نکلتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو ملنے والے اس اعلیٰ درجے کے اسلحے نے انہیں دنیا کی کئی باقاعدہ افواج سے بھی بہتر لیس بنا دیا ہے، جس سے سکیورٹی فورسز کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔





