امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق مشیرِ وزیرِ دفاع ڈگلس میک گریگر نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کاروائیوں اور نقل و حمل کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں سابق دفاعی مشیر نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے نتیجے میں بھارتی ساحلی تنصیبات اب امریکی بحری بیڑے کے لیے کلیدی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ میک گریگر کے مطابق ان بندرگاہوں کا استعمال خاص طور پر ایران سے متعلقہ فوجی مشنز اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس دعوے میں صداقت ہے تو یہ خطے کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ بھارت روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں امریکہ اور بھارت کے درمیان لاجسٹک سپورٹ کے معاہدوں نے امریکی افواج کو بھارتی فوجی اڈوں تک محدود رسائی فراہم کی ہے، جسے اب ایران کے خلاف ممکنہ صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔