طالبان کمانڈر عبدالحمید خراسانی نے پاکستان کے خلاف جنگ کے لیے کابل قیادت سے احکامات طلب کر لیے؛ کابل انتظامیہ کا عسکریت پسندانہ کردار اور جارحانہ عزائم بے نقاب۔

April 30, 2026

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ایئرپورٹس پر 2.4 ارب ڈالر کے جدید سکیورٹی سسٹم کی حمایت کر دی، جس سے امیگریشن کا وقت 45 سیکنڈ تک رہ جائے گا۔

April 30, 2026

صدر ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطے میں یوکرین اور ایران پر مشاورت؛ ٹرمپ کا نیتن یاہو کو لبنان کے خلاف مکمل جنگ سے گریز کا مشورہ۔

April 30, 2026

ہلمند کے علماء کونسل کے سربراہ نے خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندی کو معاشرے کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے نیا فتویٰ جاری کر دیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

April 30, 2026

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی ایک بڑی لاجسٹک ٹرین فوجی ساز و سامان اور بھاری گولہ بارود لے کر ریاست گجرات کی بین الاقوامی سرحد کی جانب روانہ کر دی گئی ہے

April 30, 2026

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ “معرکہء حق” محض ایک فوجی مرحلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی کاوش تھی جس میں وزیراعظم کی قیادت میں حکومتی عزم اور عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ مہارت ایک ہی صفحے پر نظر آئی۔

April 29, 2026

پاک سعودی دفاعی معاہدہ موجود، ہم امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں؛ اسحاق ڈار

وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ موجود، ہم امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں؛ اسحاق ڈار

وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، اور اگر مستقبل میں مذاکرات کا کوئی باضابطہ عمل شروع ہوتا ہے تو پاکستان اس میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

March 3, 2026

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی سفارتی معاونت اور ثالثی کے لیے تیار ہے، اور اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی بھی کر سکتا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ برس امریکہ ایران کشیدگی کے پہلے مرحلے کے بعد اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک سنجیدہ اور مشترکہ آپشن کے طور پر زیرِ غور لایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، “ہم ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہیں۔ اگر دونوں فریق اسلام آباد میں بات چیت چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔ ہم کسی بھی وقت ہر نوعیت کی ثالثی کے لیے آمادہ ہیں۔” ان کے مطابق امریکا–ایران کشیدگی کے ابتدائی مرحلے کے بعد پاکستان کو بات چیت کے لیے ایک ممکنہ دارالحکومت کے طور پر دونوں جانب سے سنجیدگی سے دیکھا گیا۔

سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، ایران کو آگاہ کیا

وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان نے “شٹل کمیونیکیشن” کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالیہ حملوں کے اعداد و شمار کا تقابل کیا جائے تو ایران کی جانب سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف نسبتاً کم کارروائیاں ہوئیں، جو سفارتی رابطوں کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔

اسلام آباد کا سفارتی کردار

پاکستانی وزیرِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی صف بندیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور دفاعی معاہدوں کی وضاحت خطے میں پاکستان کے توازن پر مبنی مؤقف کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، اور اگر مستقبل میں مذاکرات کا کوئی باضابطہ عمل شروع ہوتا ہے تو پاکستان اس میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

دیکھیے: مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش

متعلقہ مضامین

طالبان کمانڈر عبدالحمید خراسانی نے پاکستان کے خلاف جنگ کے لیے کابل قیادت سے احکامات طلب کر لیے؛ کابل انتظامیہ کا عسکریت پسندانہ کردار اور جارحانہ عزائم بے نقاب۔

April 30, 2026

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ایئرپورٹس پر 2.4 ارب ڈالر کے جدید سکیورٹی سسٹم کی حمایت کر دی، جس سے امیگریشن کا وقت 45 سیکنڈ تک رہ جائے گا۔

April 30, 2026

صدر ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطے میں یوکرین اور ایران پر مشاورت؛ ٹرمپ کا نیتن یاہو کو لبنان کے خلاف مکمل جنگ سے گریز کا مشورہ۔

April 30, 2026

ہلمند کے علماء کونسل کے سربراہ نے خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندی کو معاشرے کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے نیا فتویٰ جاری کر دیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

April 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *