امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے ذریعے انسانی امداد کے لیے 2 ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوامِ متحدہ کے اداروں کو سخت پیغام دیا ہے کہ بدلتی مالی حقیقتوں کے مطابق خود کو “ڈھالیں، سکڑیں یا ختم ہو جائیں”۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ امریکی غیر ملکی امداد میں نمایاں کٹوتیاں کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اگرچہ یہ رقم ماضی میں دی جانے والی امداد کے مقابلے میں کم ہے، مگر اس کے باوجود امریکا خود کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی امداد فراہم کرنے والا ملک برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
’نیا ماڈل‘ اور اقوامِ متحدہ سے مطالبات
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ یہ “نیا ماڈل” اقوامِ متحدہ کی انسانی سرگرمیوں کا بوجھ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ بانٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو غیر ضروری اخراجات کم کرنا ہوں گے، دہرا نظام ختم کرنا ہوگا اور شفافیت، جوابدہی اور نگرانی کے مؤثر نظام اپنانا ہوں گے۔
اس امداد کے تحت ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا جائے گا، جس سے مختلف اقوامِ متحدہ کے اداروں اور ترجیحات کے مطابق رقوم جاری کی جائیں گی۔ یہ امریکی مطالبات اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر انسانی امدادی کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی پروگرام پہلے ہی شدید کمی کا شکار ہو چکے ہیں۔
ماضی کے مقابلے میں امداد میں بڑی کمی
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ حالیہ برسوں میں سالانہ 17 ارب ڈالر تک انسانی امداد فراہم کرتا رہا ہے، جن میں سے 8 سے 10 ارب ڈالر رضاکارانہ عطیات کی صورت میں ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ امریکا اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے تحت سالانہ اربوں ڈالر واجبات بھی ادا کرتا ہے۔
نیا اعلان اس مجموعی امداد کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔
افغانستان اور یمن کو امداد سے خارج
اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکہ نے اس 2 ارب ڈالر کی امداد سے افغانستان اور یمن کو خارج کر دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں غیر ملکی امداد کے انڈر سیکریٹری (یا قائم مقام) جیریمی لیون نے جنیوا میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ یہ فیصلہ اس خدشے کے باعث کیا گیا ہے کہ امدادی رقوم طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے ہاتھ لگ سکتی ہیں۔
امریکی جائزوں، جن میں افغانستان کی تعمیرِ نو سے متعلق خصوصی انسپکٹر جنرل کی رپورٹس بھی شامل ہیں، کے مطابق طالبان نے ماضی میں اقوامِ متحدہ کی امداد میں مداخلت، زبردستی وصولی اور رقوم کے غلط استعمال میں کردار ادا کیا۔
اسی بنیاد پر افغانستان اور یمن میں اقوامِ متحدہ کے ذریعے براہِ راست امریکی فنڈنگ روک دی گئی ہے۔
عالمی ردعمل اور خدشات
انسانی امداد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ شفافیت اور نگرانی کے مطالبات کر رہا ہے، لیکن امداد میں اس حد تک کمی دنیا کے انتہائی کمزور علاقوں، خاص طور پر جنگ زدہ اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں، سنگین انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں کے مطابق غزہ، سوڈان، افغانستان اور دیگر بحران زدہ علاقوں میں پہلے ہی خوراک، صحت اور پناہ کے پروگرام شدید دباؤ کا شکار ہیں، اور نئی پالیسی ان مشکلات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
امریکہ کا یہ اعلان عالمی انسانی امدادی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے۔
دیکھیں: امارتِ اسلامیہ افغانستان کی ابو عبیدہ اور دیگر کمانڈروں کی شہادت پر اظہارِ تعزیت