امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

January 15, 2026

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

January 15, 2026

رپورٹس کے مطابق یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں پر لاگو ہوگی، جبکہ سیاحتی، کاروباری اور طالبعلم ویزے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

January 15, 2026

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں روس اور افغانستان کے درمیان رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی استحکام جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کی نشاندہی کرتا ہے۔

January 15, 2026

سرکاری اعلامیے کے مطابق شہید ریحان زیب خان نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، امن کے قیام اور معاشرتی بہتری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے، انتہا پسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے اور سماجی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی۔

January 15, 2026

بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ کے ساتھ تاریخی ملاقات میں، صدر زرداری نے تجارت، دفاع اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی

January 15, 2026

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ اور خطے کی کشیدہ صورتحال

امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ایران پر ممکنہ امریکی حملہ اور خطے کی کشیدہ صورتحال

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق جذبات اور طاقت کے مظاہرے کے بجائے عقل و دانش کا مظاہرہ کریں۔ امریکا اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تصادم کے نتائج ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔

January 15, 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید بے یقینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بیانات کی سختی، عسکری نقل و حرکت اور سفارتی محاذ پر تعطل نے خطے کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی خبریں اور تجزیے عالمی میڈیا میں نمایاں رہے ہیں، جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایران اور امریکا کے تعلقات کوئی نئی کشیدگی کا شکار نہیں، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط عدم اعتماد، پابندیوں، دھمکیوں اور بالواسطہ محاذ آرائی کی ایک طویل داستان ہے۔ ایرانی جوہری پروگرام ہمیشہ سے امریکا اور اس کے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل کے لیے باعثِ تشویش رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو پُرامن مقاصد تک محدود قرار دیتا ہے۔ اس بنیادی اختلاف نے وقتاً فوقتاً حالات کو جنگ کے دہانے تک پہنچایا ہے۔

موجودہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ خطہ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جنگ، لبنان کی سرحد پر کشیدگی، یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں اور عراق و شام میں مختلف گروہوں کی موجودگی ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہی ہے جہاں کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ شعلوں میں گھِر سکتا ہے۔ ایران پر امریکی حملہ اگر ہوتا ہے تو یہ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت تک پھیل جائیں گے۔

ایران خطے میں مختلف اتحادی گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں ردِعمل کا امکان نہایت شدید ہو سکتا ہے۔ تیل کی ترسیل کے اہم راستے، خصوصاً آبنائے ہرمز، خطرے میں پڑ سکتے ہیں جس کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور معیشت پر پڑے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، مہنگائی اور توانائی کے بحران کی مزید شدت برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا جنگ واقعی کسی مسئلے کا حل ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی بیشتر جنگوں نے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ کیا ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، پناہ گزینوں کا بحران اور معاشی تباہی وہ قیمت ہے جو ہمیشہ عام شہریوں کو ادا کرنی پڑتی ہے، جبکہ سیاسی مقاصد اکثر حاصل نہیں ہو پاتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق جذبات اور طاقت کے مظاہرے کے بجائے عقل و دانش کا مظاہرہ کریں۔ امریکا اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تصادم کے نتائج ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ یہ عالمی امن، معیشت اور انسانیت کے لیے ایک سنگین امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ جنگ کے بادل چھٹیں اور مذاکرات کا سورج طلوع ہو، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے اور دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

January 15, 2026

رپورٹس کے مطابق یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں پر لاگو ہوگی، جبکہ سیاحتی، کاروباری اور طالبعلم ویزے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

January 15, 2026

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں روس اور افغانستان کے درمیان رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی استحکام جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کی نشاندہی کرتا ہے۔

January 15, 2026

سرکاری اعلامیے کے مطابق شہید ریحان زیب خان نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، امن کے قیام اور معاشرتی بہتری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے، انتہا پسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے اور سماجی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی۔

January 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *