مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید بے یقینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بیانات کی سختی، عسکری نقل و حرکت اور سفارتی محاذ پر تعطل نے خطے کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی خبریں اور تجزیے عالمی میڈیا میں نمایاں رہے ہیں، جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایران اور امریکا کے تعلقات کوئی نئی کشیدگی کا شکار نہیں، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط عدم اعتماد، پابندیوں، دھمکیوں اور بالواسطہ محاذ آرائی کی ایک طویل داستان ہے۔ ایرانی جوہری پروگرام ہمیشہ سے امریکا اور اس کے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل کے لیے باعثِ تشویش رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو پُرامن مقاصد تک محدود قرار دیتا ہے۔ اس بنیادی اختلاف نے وقتاً فوقتاً حالات کو جنگ کے دہانے تک پہنچایا ہے۔
موجودہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ خطہ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جنگ، لبنان کی سرحد پر کشیدگی، یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں اور عراق و شام میں مختلف گروہوں کی موجودگی ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہی ہے جہاں کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ شعلوں میں گھِر سکتا ہے۔ ایران پر امریکی حملہ اگر ہوتا ہے تو یہ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت تک پھیل جائیں گے۔
ایران خطے میں مختلف اتحادی گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں ردِعمل کا امکان نہایت شدید ہو سکتا ہے۔ تیل کی ترسیل کے اہم راستے، خصوصاً آبنائے ہرمز، خطرے میں پڑ سکتے ہیں جس کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور معیشت پر پڑے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، مہنگائی اور توانائی کے بحران کی مزید شدت برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا جنگ واقعی کسی مسئلے کا حل ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی بیشتر جنگوں نے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ کیا ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، پناہ گزینوں کا بحران اور معاشی تباہی وہ قیمت ہے جو ہمیشہ عام شہریوں کو ادا کرنی پڑتی ہے، جبکہ سیاسی مقاصد اکثر حاصل نہیں ہو پاتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق جذبات اور طاقت کے مظاہرے کے بجائے عقل و دانش کا مظاہرہ کریں۔ امریکا اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تصادم کے نتائج ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ یہ عالمی امن، معیشت اور انسانیت کے لیے ایک سنگین امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ جنگ کے بادل چھٹیں اور مذاکرات کا سورج طلوع ہو، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے اور دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔