واشنگٹن میں امریکی تجارتی نمائندے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کی گئی ایک پوسٹ میں استعمال ہونے والے نقشے نے سفارتی اور پالیسی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ نقشہ ایک حساس اور متنازع خطے کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے اس کی حیثیت ایک طے شدہ حقیقت ہو، حالانکہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ متنازعہ سرزمین ہے۔
From tree nuts and dried distillers’ grains to red sorghum and fresh and processed fruit, the U.S.-India Agreement will provide new market access for American products. pic.twitter.com/mqpP10LJp1
— United States Trade Representative (@USTradeRep) February 6, 2026
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پوسٹ تجارتی اور معاشی پیغام رسانی کے تناظر میں کی گئی، تاہم سرکاری نوعیت کے بصری مواد میں جغرافیائی تنازعات کو نظرانداز کرنا غیر ارادی طور پر سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں نقشوں اور علامتی نمائندگی کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ایسی تفصیلات غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔
اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان مختلف اسٹریٹجک اور اقتصادی امور پر مسلسل رابطہ موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی تناظر میں نقشوں اور سرکاری بصری مواد میں وضاحت اور احتیاط دونوں ممالک کے درمیان غیر ضروری ابہام سے بچنے کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان کی توقع ہے کہ امریکا اپنے اس دیرینہ مؤقف سے ہم آہنگ رہے گا جس کے تحت وہ مسئلہ کشمیر پر کسی ایک فریق کے یکطرفہ دعوے کی حمایت کے بجائے اسے ایک متنازع علاقہ تسلیم کرتا آیا ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اگرچہ اس طرح کے نقشے اکثر غیر دانستہ طور پر استعمال ہو جاتے ہیں، تاہم ان کی علامتی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے کارٹوگرافک انتخاب نہ صرف سفارتی وزن رکھتے ہیں بلکہ ایک حساس علاقائی ماحول میں مختلف انداز سے تعبیر کیے جا سکتے ہیں، اس لیے متعلقہ اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی طور پر تسلیم شدہ حقائق اور حساسیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مواد جاری کریں۔