امریکہ نے ایران کے حوالے سے سفری ہدایات میں انتہائی اہم ترمیم کرتے ہوئے ایران میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایات دی ہے کہ “فوری طور پر ملک چھوڑ دیں”۔ محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ تدابیر متعدد سنگین خطرات کے پیش نظر اختیار کی گئی ہیں، جن میں ایران میں امریکی شہریوں کو اغواء یا خودساختہ قید, امریکی پاسپورٹ ضبط کرنے کا امکان اور شہریوں کو جاسوسی کے جھوٹے الزامات میں پھنسانے کی صورتحال شامل ہیں۔
شہریوں کے لیے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ وہ تجارتی پروازوں یا دیگر دستیاب ذرائع سے فوری طور پر ایران چھوڑنے کی منصوبہ بندی کریں۔ انہیں اپنے سوشل میڈیا پروفائلز کو نجی رکھنے، سفر کی تفصیلات شیئر نہ کرنے اور کسی بھی غیر متوقع صورت حال کے لیے اپنے دستاویزات اور ضروری اشیاu تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیز ایرانی قوانین، خاص طور پر خواتین کے حجاب اور سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قواعد کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔
یہ سفری انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ چل رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور امریکی پابندیوں پر جاری تنازعات کے درمیان بات چیت کے تمام امکانات بھی مایوس کُن ہیں۔ بیا ن میں واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ ایران میں امریکی حکومت کا سفارتی یا قونصلر عملہ موجود نہیں، لہٰذا ہنگامی حالت میں مدد کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے ابھی تک اس مخصوص انتباہ پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ماضی میں ایرانی حکام نے امریکہ کی جانب سے جاری کیے گئے سفری انتباہات کو “پروپیگنڈہ” اور “ایران کی غیر مستحکم تصویر کشی” قرار دیا ہے۔۔